سوال (6501)
عرض یہ ہے کہ ہمارے گاؤں کے نوجوانوں نے ایک فلاحی کمیٹی بنائی ہے جس میں ماہانہ چندہ جمع کیا جاتا ہے۔ گاؤں کے بعض افراد کی کمائی آن لائن فراڈ اور دیگر ناجائز ذرائع سے ہوتی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ایسے افراد سے فلاحی کمیٹی کے لیے چندہ وصول کرنا جائز ہے؟ اور اگر وصول ہو جائے تو کیا اس رقم کو فلاحی یا دینی کاموں میں خرچ کیا جا سکتا ہے؟ براہِ کرم شرعی رہنمائی فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب
کسی کی آمدنی کو بالجزم کہنا یہ بڑے حوصلے کی بات ہے، اس کے لیے دلیل کی ضرورت ہے، ایک بات یاد رکھیں، شکوک و شبہات کی بنا پر کسی کے کام کو حرام کہنا صحیح نہیں ہے، دوسرا یہ ہے کہ جب واضح ہو جائے کہ معاملہ اس طرح کا ہے، تو ایسے لوگوں سے اپیل نہیں کرنی چاہیے، جیسے کہ کچھ غیر مسلم ہوتے ہیں، باقی رہی کمیٹی کا مسئلہ، جو مسجد کے ڈال دی گئی ہے، اس کے لیے ان کو دعوت نہیں دینی چاہیے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




