سوال 6900
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
معزز علماء کرام رہنمائی فرمائیں، ایک شخص تقریبا چار پانچ ماہ قبل وفات پا چکا بعد از وفات لوگوں نے ورثاء کو خیرات کرنے پر زور دیا تو انہوں نے جوابا افطار کروانے کہا کہا کہ ہم رمضان المبارک میں افطار کروائیں گے۔
کیا فوت شدہ شخص کی طرف سے دعوت افطار وغیرہ درست عمل ہے۔ جزاکم اللہ خیرا کثیرا
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
جی دعوت افطار بھی نیک عمل ہے جو میت کے ایصالِ ثواب کے لیے کی جاسکتی ہے۔
واللّٰہ أعلم بالصواب
فضیلۃ العالم عثمان زید حفظہ اللہ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
فوت شدگان کی طرف سے مالی طور پر صدقہ کرنا ثابت ہے۔ [بخاری: 2756]
لیکن فوت شدگان کی طرف اس طرح اکٹھ کرکے افطاری کروانا صحیح نہیں۔ یہ اہل بدعت کی عین نقالی ہے۔
فوت شدگان کی طرف سے صدقہ کی مختلف جائز صورتوں ہوسکتی ہیں جیساکہ
مسجد/مدرسہ کی تعمیر میں حصہ شامل کرنا
کسی مسجد/مدرسہ میں صفوں، پنھکے/کولر پانی، کا انتظام کرنا۔ درخت لگانا۔ نقدی رقم، لباس، راشن کی صورت میں کسی مستحق کی مدد کرنا وغیرہ ہی مشروع ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ




