سوال 7019
فہمِ سلف (صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کے طریقِ فہم) کیا ہے؟ اور موجودہ دور کے نئے مسائل، جو براہِ راست قرآن و سنت میں مذکور نہیں، ان کا حل فہمِ سلف کی روشنی میں کیسے کیا جائے؟
جواب
سلف سے مراد وہ صالح اور نیک لوگ ہیں جو گزر چکے ہیں۔ خود نبی علیہ السلام نے بھی فرمایا:
“نِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ”
یعنی میں تمہارے لیے بہترین سلف (پیش رو) ہوں۔ عام طور پر جمہور صحابہ، جمہور تابعین اور جمہور اہلِ علم کو سلفِ صالحین کہا جاتا ہے۔
فہم سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے کتاب و سنت کو سمجھا، اس سے معانی اخذ کیے، اور اس کی تعبیر و تشریح قولاً و فعلاً پیش کر دی۔ چونکہ صحابہ نے دین براہِ راست نبی علیہ السلام سے لیا، پھر تابعین نے صحابہ سے، اس لیے ان کا راستہ زیادہ احکم، اسلم، سیدھا، محتاط اور علمی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اجتہاد کا دروازہ بند ہو گیا ہے۔ دورِ جدید کے مسائل کا حل اجتہاد ہی سے ہوگا، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ سلف کے فہم کے خلاف نہ ہو۔
اگر کوئی اس اصول سے ہٹ کر یہ کہے کہ ہم قرآن و سنت کو براہِ راست خود سمجھیں گے، جیسے بعض معاصر رجحانات (مثلاً غامدی ازم) میں کہا جاتا ہے، تو اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ ایسے ہی طریقے سے بعض لوگوں نے بے پردگی یا موسیقی جیسے امور کو بھی قرآن سے ثابت کرنے کی کوشش کی۔
حالانکہ یہی قرآن سلف کے سامنے بھی تھا، مگر انہوں نے نہ کسی آیت سے میلاد ثابت کیا، نہ گیارہویں وغیرہ جیسے امور کو دین کا حصہ بنایا۔ آج بعض لوگ قرآن کو اپنی آراء کے مطابق استعمال کر رہے ہیں۔
لہٰذا اصل بات یہ ہے کہ سلف نے دین کو جیسے سمجھا، ویسے ہی سمجھا جائے۔ انہوں نے اپنے اقوال اور اعمال کے ذریعے دین کی تعبیر پیش کر دی ہے، اس کے خلاف نہیں جانا چاہیے۔
البتہ اجتہادی مسائل میں دروازہ کھلا ہے، اور مجتہدین نئے مسائل میں اجتہاد کریں گے، مگر سلف کے اصولی فہم کی پابندی کے ساتھ۔ یہی فہمِ سلف کا خلاصہ ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ



