سوال       6767

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

زکوٰۃ کی مد فی سبیل اللہ سے ایک عالم کے آنے جانے کا کرایہ دیا جا سکتا ہے؟ جب وہ کسی دور کی جگہ دین سکھانے جاتا ہے، جہاں پر علم کی بہت کمی ہے؟

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
لیکن جو لوگ وقف ہوتے ہیں فی سبیل اللہ وہ اس کے حقدار ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

“لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُم بِسِيمَاهُمْ لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا”

اس آیت سے مراد اصحابِ صُفہ ہیں، جو اپنے آپ کو دین کے کام کے لیے وقف کیے ہوئے تھے۔ انہیں جو کام دیا جاتا، وہ کرتے تھے اور حصولِ رزق کے لیے ادھر اُدھر نہیں جا سکتے تھے۔
لہذا جن لوگوں کو پڑھایا جا رہا ہے اور وہ خود اخراجات برداشت (افورڈ) نہیں کر سکتے، تو ان کی کفالت کوئی اور شخص اٹھا لے، یا کوئی ادارہ یہ ذمہ داری سنبھال لے۔
آج کے دور میں ادارہ عام طور پر بیت المال کی نیابت کر رہا ہوتا ہے، اس لیے ان شاء اللہ اس طرح تعاون کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ