سوال 6709
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
شیخ صاحب سعودی والے بلخصوص امامِ حرمین، رکوع میں ہاتھ کیوں باندھتے ہیں؟ جبکہ اس کی کوئی ایک بھی دلیل نہیں ہے؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
دین کا معاملہ عرب و عجم کے اعتبار سے نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ دین تو سب کے لیے ہے۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ سارے ائمہ حرم جو ہیں، وہ ہاتھ نہیں باندھتے۔ بعض تو رکوع سے پہلے بھی نہیں باندھتے، بعض تحت السُرہ باندھتے ہیں۔
یہ فروعی مسائل میں اُن کی وسعت اور تساہل کو ظاہر کرتا ہے، بلکہ مداہنت اور دلوں کے حالات کو بھی اللہ بہتر جانتا ہے۔
اصل چیز یہ ہے کہ ہم کتاب و سنت اور فہم سلف کو دیکھیں، یعنی جمہور فہم سلف کیا ہے۔ جب ہم اس پر غور کرتے ہیں تو ہمارے نزدیک مسئلہ واضح ہے: ارسال اولٰی ہے۔
کتابوں کے ابواب واضح ہیں، اور عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا اثر بھی واضح ہے، جیسا کہ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے بیان کیا۔
اسی طرح ذخیرۃ العقبیٰ فی شرح المجتبٰی، نسائی کی چالیس اجزاء پر شرح، وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے حوالے سے اس بحث کو مکمل طور پر بیان کرتی ہے۔ تو بات نکھر کر سامنے آ جاتی ہے کہ ارسال اولٰی ہے، افضل ہے اور مسنون ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں ادلہ اور فہم سلف دیکھنا چاہیے، نہ کہ موجودہ دور یا ماضی کے کسی ایک شخص کی رائے کو بنیاد بنا کر۔ اور ان فروعی مسائل میں بے جا سختی یا تشدد صحیح نہیں ہے۔
سب سے پرانا قول امام احمد رحمہ اللہ کا ہے، جیسا کہ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے ذکر کیا۔
ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس مسئلے میں کوئی سختی یا تنگی نہیں ہے۔
یعنی دونوں صورتیں ہو سکتی ہیں۔ لیکن بعض لوگ پیش کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ قدیم ہے اور اس سے بخاری کی تصدیق ثابت ہوتی ہے۔ تو ہم پوچھیں کہ کیا آپ دونوں صورتوں پر عمل کرتے ہیں؟ یا صرف کتابت اور مسند احمد سے دلیل لے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ حدیث واضح ہے کہ ہاتھ باندھنا چاہیے؟ ایسا نہیں ہے۔
یہاں فہمِ سلف کو بگاڑنے کی ضرورت نہیں، بلکہ ہمیں امام احمد کی کتاب اور ان کے اصل موقف کو سمجھنا چاہیے۔
اور ایک اہم بات عرض کردوں: یہ مسئلہ ایک شخص نے اٹھادیا، جو نہ عالم ہے، نہ قاری، نہ حافظ، اور لوگوں کے ذہن میں یہ خیال ڈال دیا کہ مسئلہ بخاری سے ثابت ہے، جبکہ یہ فہم کا مسئلہ ہے۔
جب مجھے یہ معلوم ہوا تو میرا انداز تو سخت ہوتا ہے۔ میں نے کہا کہ دیکھیں بھائی، آپ جتنے مشائخ ہیں، بخاری پڑھانے والے، ان کے بارے میں کیا کہیں گے؟ میں خود پیدائشی اندھا ہوں، پھر شیخ ابراہیم بھٹی، حافظ سلیم صاحب، حافظ مسعود عالم، حافظ شریف صاحب، یہ سب اندھے ہیں؟ نعوذ باللہ، یہ سب مشائخ مدارس میں بخاری پڑھا چکے ہیں، اور ان کی عمریں گزر گئیں، پھر بھی یہ نہیں جانتے کہ بخاری میں مسئلہ موجود ہے؟ تو دین کو بچوں کا کھیل نہ بنائیں، نہ فہم سلف کو غلط انداز میں پیش کریں۔
یہ سب باتیں ہمیں یاد رکھنی چاہئیں تاکہ دین کے مسائل میں تشدد اور سختی سے گریز ہو اور اصل نصوص اور فہمِ سلف کی روشنی میں عمل کیا جائے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ



