فرقہ واریت اور جناب مرزا جہلمی

قبل از ایامِ چنداں مرزا جہلمی کے ایک سٹوڈنٹ سے گفتگو کا موقع میسر آیا، موضوع کے متعلق چند باتوں میں سے ایک قول یہ فرمانے لگے کہ کیا اہل حدیث فرقہ کے علماء اپنے فرقے پر لعنت بھیج سکتے ہیں؟ کیا بریلوی علماء؟ اور اسی طرح دیوبندی اور شیعہ علماء؟ جواب عرض کیا! کہ بالکل نہیں! تو کہنے لگے، کہ مرزا صاحب علمی کتابی فرقے پر لعنت بھیجتے ہیں۔
دراصل یہ میرے اس دعوے کے جواب میں نفی کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ “مرزا صاحب نے بھی اپنا ایک فرقہ قائم کر لیا ہے اور وہ اس فرقے کے بابے ہیں“

فرقہ واریت کی مروج تعبیر اور درست معنیٰ

فرقہ واریت اس رویے اور طرز عمل کو کہتے ہیں جس میں کوئی گروہ اپنے مخصوص مذہبی، مسلکی یا جماعتی فرقے کو ہی صحیح اور دوسروں کو غلط سمجھتے ہوئے تعصب، نفرت، دشمنی اور ٹکراؤ کی کیفیت اختیار کر لیتا ہے۔

نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے

ستفترق أمتي على ثلاث وسبعين فرقة، كلها في النار إلا واحدة”
رواه أبو داود والترمذي وأحمد وغيرهم

میری امت 73 فرقوں میں بٹ جائے گی سب جہنم میں” ہوں گے سوائے ایک کے۔
پوچھا گیا! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! وہ کون سا ہوگا؟ فرمایا! جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر ہوگا”

یہ جان لینا از حد ضروری ہے کہ شریعت کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ایک اصل (عقیدہ) اور دوسرا فرع (عمل)

تفرقہ دراصل عقیدے میں تبدیلی سے وجود میں آتا ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے بریلوی، دیوبندی اور شیعہ احباب عقیدے کی کئی شقّوں میں صحابہ اور تابعین کے منہج سے ہٹے ہوئے ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ تقلید ہے اور تقلید ہی تفرقہ اور تعصب کا پیش خیمہ ہے۔
قران میں اللہ تعالی جس تفرقے سے منع فرما رہے ہیں وہ عقیدہ میں رسول اللہ صلی ال علیہ وسلم اور صحابہ اور تابعین کے فرقے سے علیحدگی کا اظہار ہے۔
اللہ تعالی فرماتے ہیں

وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیعًا وَلَا تَفَرَّقُوا

“اور اللہ کی رسی (قرآن و سنت) کو سب مل کر مضبوطی سے پکڑو اور تفرقہ مت ڈالو۔”

وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ

“اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے واضح دلائل آ جانے کے بعد تفرقہ ڈالا اور اختلاف کیا۔”

إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ

“جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور گروہ بنا لیے، آپ (ﷺ) کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔”

ان تمام آیات میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو اپنے مسلَّم دین میں عقیدے کے کسی بھی مسئلے میں باطل کی پیروی سے منع فرمایا ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ ایک عقیدہ ساڑھے چودہ سو سال قبل شارع نے ہمیں قران و حدیث میں سمجھا دیا۔ ادوارِ صحابہ میں ایک شخص اٹھا جس نے اس نصِ قرانی سے غلط عقیدہ یا معنیٰ مستنبط کیا اور جماعتِ صحابہ سے الگ ایک فرقہ بنا لیا جسے ہم خوارج کے نام سے جانتے ہیں۔
جس کے بارے میں جناب علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا تھا
“كلمة حق اريد بها الباطل ”

اسی طرح مختلف لوگ اسلام کے اصولوں کو عقل پر پرکھتے ہوئے سمجھتے اور ان میں صحابہ کے منہج سے روگردانی کرتے اور تفرقہ کے عمل کے مرتکب ٹھہرتے
ان تمام باطل فرقوں کو ان کے عقائد و نظریات کے مطابق کچھ ناموں سے موسوم کیا گیا
مثلاً معتزله اور جهميه اور قدريه اور ماتريديه اور اشاعره
اور جبريه وغیرھم
غیر معین طور پر یہ سب کسی نہ کسی انداز میں کفر و شرک کے مرتکب تھے لیکن معین طور پر انہیں مشرک و کافر کہنے کا حق قضاۃ اور مفتیان کا ہے (شرائط کی تکمیل کے بعد)۔

ان سب فِرَقِ باطلہ سے امتیاز کرنے کے لیے نصوص کے بقول فرقہ ناجیہ کو سلف صالحین کے منہج کی پیروی قران و سنت کے سائے تلے کرتے ہوئے سلفی یا اہل حدیث یا اہل السنہ والجماعت کہا جاتا ہے اور انہی مذکورہ بالا نصوص کے تحت یہ بھی ایک مستقل فرقہ(جماعت) ہے جس کی سند جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتی ہے۔

جب کہ ہم فرقے کی وجہ تسمیہ اور تفرقہ یا تفرُّق کو سمجھ چکے ہیں تو یہ بات سمجھنا بھی آسان ہے کہ دین میں باطل فرقوں کا ابطال اور نکیر کو فرقہ واریت نہیں کہا جا سکتا کیونکہ یہ ہر مومن کا فرض بھی ہے اور کلمہ لا الہ الا اللہ کا تقاضا بھی۔

معلوم ہوا کہ مروجہ فرقہ واریت ہی تو اسلام کا مقتضا ہے۔
اصل فرقہ واریت تو دین کی اصل کو منہج سلف صالحین سے ہٹ کر سمجھنا اور گرداننا ہے جو کہ مذموم عمل ہے۔

ان تمام تر فرقوں کے درمیان اچانک ایک “ون مین شو“ نمودار ہوتا ہے جسے ہم “انجینیئر محمد علی مرزا“ کے نام سے سوشل میڈیا کے توسط سے جانتے ہیں جو کہ اس امر کے دعویدار ہیں کہ وہ کسی فرقہ یا جماعت کا حصہ نہیں بلکہ سب کو مسلمان سمجھتے ہوئے سب کا رد کرتے ہیں۔ شرک و بدعت سے مرصع امام کی اقتدا میں نماز کو بھی جائز سمجھتے ہیں اور اپنے ان فالورز جنہوں نے ان سے مستقل زانوئے تلمذ تہ نہیں کیا، کو اپنا سٹوڈنٹ سمجھتے اور کہتے ہیں۔ جبکہ خود بھی انہوں نے کبھی کسی صحیح العقیدہ عالم دین کی شاگردی اختیار نہیں کی۔
ان کے امتیازات میں سے یہ بھی ہے کہ یہ اس دور میں کسی بھی جماعت سے متعلق علماء کو فراڈیا اور دجال سمجھتے ہیں اور لوگوں کی مسجد و مدرسے کی امداد میں دی جانے والی رقم کو استعمال میں لانے والے علماء اور قراء کو چندہ خور کہتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ علماء ان کا چہرہ اپنے ‘تھمب نیلز‘ پر لگا کر ‘فیم‘ حاصل کرتے ہیں جبکہ ان کی اپنی ‘علمی‘ زندگی کا دارومدار بھی صحابہ اور علماء پر طعن رہا ہے۔
یہ فردِ واحد ہی صدیوں بعد بطورِ مجدد و امام تشریف لائے ہیں جنہوں نے ان کے اپنے بقول مروجہ فرقہ واریت کے بت کو توڑا ہے جبکہ یہ کارنامہ ان سے پہلے مرزا قادیانی ملعون نے بھی سر انجام دیا تھا۔
ان کے آنے سے قبل ساری دنیا کے علماء فرقہ واریت کے اس جال میں پھنسے ہوئے تھے اور ہر فرقہ دوسرے کے غلط عقائد و نظریات کا ابطال کرنے میں مصروف تھا حالانکہ یہی کام انہوں نے بھی شروع کیا لیکن عملی زندگی میں یہ مسلمانوں کو حق و باطل کا ملغوبہ بنانا چاہتے ہیں۔
یہ اسلام کا ایک ایسا ورژن پیش کر رہے ہیں جس میں آپ کو علماء کی ضرورت نہیں اور علماء کی جماعت کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے یہ بذات خود ‘ون مین آرمی“ ہیں جو تو خود تمام فرقوں کے علماء سے دشمنی مول لیتے ہیں لیکن ان کا آپسی ‘قبول و رد‘ ان کو پسند نہیں, ان کا دل کرے تو سیکولرز اور لبرلز حتی کہ غیر مسلموں کو بھی شرف و تکریم سے نواز دیں اور دوسری طرف قرآن و سنت اور روایت کے امین علماء کو دجال جیسے قبیح لقب سے ملقب فرما دیں اور ان کے خلاف بولنے کو جہاد قرار دیں۔

ان کے امتیازات کی فہرست کافی طویل ہے اسی لیے خطرۂ طوالت کے پیشِ نظر آخری خصوصیت ذکر کر کے اسی پر اکتفا کرتا ہوں، وہ یہ ان کی ہر دوسری ویڈیو اور بیان پہلی کی بیخ کنی کے لیے کافی رہتا ہے۔

آج ضرورت جماعت کے ساتھ جڑنے کی ہے اگر کوئی نو مسلم متعدد فرقوں کو دیکھتا ہے اور اسے انتخاب کرنے میں مشکل کا سامنا ہے تو وہ خود قران و سنت کو پڑھے اور پھر اپنی کوشش اور جدوجہد سے فیصلہ کرے کہ وہ کس جماعت اور فرقے کو قرآن و سنت کے قریب ترین گردانتا ہے کیونکہ کوئی تو جماعت زمین پر ایسی موجود ہے جو راہِ راست پر ہے اور پھر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لے۔

اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا

اور جس نے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد رسول کی” مخالفت کی اور مومنوں کے راستے کے علاوہ کی پیروی کی تو ہم اسے پھیر دیں گے جہاں وہ پھرا اور اسے جہنم میں داخل کریں گے اور یہ برا ٹھکانہ ہے۔“

تو معلوم ہوا کہ دین میں سبیل المومنین کی پیروی فرض ہے اور وہ صحابہ و تابعین اور محدثین کی جماعت ہے۔
دین میں ‘ون مین شو‘ کا کوئی تصور نہیں، دین علماء کی جماعت سے حاصل ہوتا ہے اس لیے سلف صالحین کے سینکڑوں اساتذہ کرام ہوا کرتے تھے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کے بھی ایک ہزار 80 اساتذہ کرام مذکور اور معروف ہیں۔
اور یہی بات ہے کہ جب اللہ تعالی قربِ قیامت علم کو اٹھا لیں گے تو وہ علم کو لوگوں کے سینوں سے اچک نہیں لیں گے بلکہ علماء کو اس دنیا سے فوت کر دیں گے۔ تو اس حدیث سے بھی پتہ چلتا ہے کہ علم وہ ہے جو علماء کی جماعت سے حاصل ہوتا ہے

اور دین میں ‘ون مین شو‘ کا کوئی تصور نہیں۔۔۔!

 عبدالرحیم

یہ بھی پڑھیں: انجینئر محمد علی مرزا کی گرفتاری اور علما کے متضاد احساسات!