سوال 6663
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مشائخ کرام سے گزارش یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو فکسنگ پر رقم دیتا ہے، اسے پرافٹ فکس ایک پرسنٹ دیتا ہے اور بینک بھی فکس پرافٹ دیتا ہے تو شرعاً جائز ہے؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
پیسے پر پیسہ لینا، چاہے وہ ایک فیصد ہو یا اس سے بھی کم، شرعاً سود (ربا) شمار ہوتا ہے۔ یہ حکم ہر جگہ یکساں لاگو ہوتا ہے، خواہ آپ بینک سے لیں، کسی شخص سے، کسی ادارے سے، یا کسی دکان سے۔ اس لیے اس عمل سے گریز کرنا واجب ہے، اور جائز ذریعہ سے لینا ضروری ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




