سوال (3922)
کیا فوت شدگان کی طرف سے عمرہ کیا جا سکتا ہے؟
جواب
اگر زندہ بھی سواری کے قابل نہ ہو تو اس کی نیابت کی جا سکتی ہے، اس طرح جو زندہ نہ ہو اس کی بھی نیابت حج و عمرے میں کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ فوت شدہ کی طرف حج یا عمرہ کرنے والا پہلے اپنا حج و عمرہ کر چکا ہو، تو پھر وہ فوت شدہ کی طرف سے بھی کر سکتا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سوال: کیا فوت شدہ کی طرف عمرہ کر سکتے ہیں؟
جواب: جس شخص نے اپنا عمرہ کرلیا ہے، سہ شخص اپنے فوت شدگان کی طرف سے عمرہ کر سکتا ہے، ایسے لوگ جو سفر کے قابل نہیں ہیں، اور نہ ہی قابل ہو سکتے ہیں، ان کی طرف سے بھی عمرہ کیا جا سکتا ہے، شوقیہ نہیں ہوگا کہ میرے پاس ٹائیم نہیں ہے، آپ میری طرف سے کرلیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: ایک شخص ایک سفر میں کتنے عمرے کر سکتا ہے؟
جواب: بات یہ ہے کہ اگر وہ شرعی میقات میں جاتا ہے، تو اس کی مرضی جتنے چاہے عمرے کرلے، ان شاءاللہ
“تابعوا بین الحج والعمرة”
اس حدیث کو ملحوظ رکھ کر کہتے ہیں، جتنے عمرے آپ کو ملیں، آپ کر سکتے ہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: اگر ایک شخص عمرہ کر چکا ہے اور اس کو دوبارہ اللّٰہ عمرہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے تو وہ کسی اور کے لیے فوت شدگان میں سے کر سکتا ہے یا پھر پہلے اپنا عمرہ ادا کرے گا پھر کسی اور کے لیے کر سکے گا؟
جواب:اگر آپ اپنا عمرہ کر چکے ہیں تو کسی فوت شدہ موحد کی طرف سے عمرہ کر سکتے ہیں یا ایسا شخص جو سفر کے قابل نہیں ہے اور آئندہ بھی کبھی صحت کے اعتبار سے قابل نہیں ہو سکے گا تو اس کی طرف سے بھی اگر وہ موحد ہے عمرہ کر سکتے ہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: شیخ محترم دوسرے سفر میں انسان جب عمرہ کے لیے آئے تو پھر اسے پہلے اپنا عمرہ کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ آتے ہی کسی مواحد کا عمرہ کر سکتا ہے ایسا ہی ہے نہ؟
جواب: ہاں یہ بھی ٹھیک ہے، لیکن جب وہ پہنچا ہے خوش قسمتی سے، تو ایک اپنا کر لے ایک دوسرے کا کر لے۔ اگرچہ اس نے زندگی میں اپنا عمرہ کر چکا ہے وہ، تو یہ موقعے بار بار تو نہیں ملتے نا۔




