سوال 6700
ایک خاتون کپڑوں کی سلائی وغیرہ کا کام کرتی ہیں۔ وہ اہلِ تشیع گھروں سے بھی سلائی کا کام لیتی ہیں۔ کام کے دوران وہ ان خواتین کو رشتہ داری کے ناموں سے پکارتی ہیں، مثلاً کسی کو بھابھی، کسی کو چچی، کسی کو آپی وغیرہ کہہ دیتی ہیں، حالانکہ حقیقت میں ان سے کوئی حقیقی رشتہ نہیں ہوتا۔
سوال یہ ہے کہ کام کے دائرے میں اس طرح غیر حقیقی رشتوں کے ناموں سے پکارنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اس بارے میں رہنمائی درکار ہے۔
جواب
بات یہ ہے کہ جغرافیائی اور عرفی اعتبار سے ایک دوسرے کو بہن بھائی، چچا، تایا، ماموں، خالو، نانا، دادا، چچا زاد بھائی وغیرہ کہہ سکتے ہیں، اس میں کوئی سختی نہیں ہے۔
اس پر قرآنِ مجید سے بھی رہنمائی ملتی ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں مختلف مقامات پر فرمایا ہے:
﴿وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا﴾
یعنی ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا، اور فرمایا:
﴿وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا﴾
یعنی ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔
اسی طرح کی اور بھی بہت سی مثالیں جمع کی جا سکتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لغوی، عرفی اور جغرافیائی اعتبار سے مخاطب کو بھائی کہنا درست ہے۔ اسی بنیاد پر چچا، تایا، چچا کے بیٹے، خالہ، پھوپھی وغیرہ کہہ کر پکارنا بھی ان شاء اللہ حرج والی بات نہیں ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




