سوال 6621
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
جواب دے کر عنداللہ ماجور ہوں.
اگر کوئی شخص ساتویں دن کی بجائے تیسرے دن عقیقہ کر دے تو کیا یہ صدقہ شمار ہو گا یا عقیقہ؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
یہ دراصل ایک پرانا اور مسلسل چلا آنے والا مرض ہے کہ لوگ دین کو اپنی سہولت اور مرضی کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ شریعت انسانوں کی ذاتی مجبوریوں کے تابع نہیں ہوتی۔ بعض لوگ یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ تیسرے دن اس لیے عقیقہ کر رہے ہیں کہ والد یا بھائی بیرونِ ملک جا رہا ہے اور ہم اس کی موجودگی میں عقیقہ کرنا چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ شرعی عذر نہیں۔ عقیقہ کا مقررہ وقت شریعت میں ساتواں دن ہے، اور اصل و مسنون طریقہ یہی ہے۔ ذاتی مصروفیات یا سفری مجبوریوں کی بنیاد پر شرعی احکام میں تبدیلی درست نہیں۔
لہٰذا حکم یہی ہے کہ عقیقہ ساتویں دن کیا جائے، اس کے خلاف طرزِ عمل اختیار کرنا درست نہیں۔ اس سے زیادہ اس باب میں کوئی گنجائش نہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبدالرزاق زاہد حفظہ اللہ




