سوال 6891
اگر کوئی غیر مسلم خاندان اپنی عیسائی یا یہودی بیٹی کو کسی مسلمان مرد سے نکاح کی اجازت دینے سے انکار کر دے، اور وہ لوگ ایسے غیر مسلم ملک میں رہتے ہوں جہاں نکاح کروانے والے مقامی افراد بھی غیر مسلم ہوں، تو کیا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اگرچہ نکاح علانیہ طور پر کر لیا جائے، پھر بھی ولی حاصل نہ ہونے کی وجہ سے یہ نکاح شرعاً باطل شمار ہوگا؟
پچھلے فتویٰ کی بنیاد پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ غیر مسلم ممالک (دارالحرب) میں رہنے والے مسلمان اگر عیسائی یا یہودی عورتوں سے نکاح کریں اور ولی کی شرط پوری نہ ہو، تو ان کے نکاح غیر معتبر ہوں گے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے نکاح اسلام میں تسلیم نہیں کیے جاتے اور ان سے پیدا ہونے والے بچے بھی شرعاً جائز (نسب کے اعتبار سے صحیح) نہیں سمجھے جائیں گے؟
یا پھر ان حالات میں کوئی دوسرا معتبر فقہی موقف (فتویٰ) بھی موجود ہے جو ایسے نکاح کو درست قرار دیتا ہو، اور اس طرح نکاح اور اولاد دونوں کی شرعی حیثیت کو صحیح مانتا ہو؟اس سوال کا جواب درکار ہے۔
جواب
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیں، جو لڑکا یا لڑکی مسلمان ہو جاتے ہیں، لڑکا تو خود ہی ولی ہوتا ہے اور وکیل بھی۔ لڑکی کو ولی چاہیے۔ تو اس کے جو غیر مسلم ماں باپ ہیں، وہ ولایت کا حق کھو بیٹھتے ہیں۔ اس کا والد جو ہیں، وہ غیر مسلم ہونے کی وجہ سے ولایت کا حق اس بچی کے حق میں کھو بیٹھتے ہیں۔ تو وہ وہاں کی جو مسلم کمیونٹی ہے، اس میں سے کسی کو بھی اپنا ولی نامزد کر کے قانونی طور پر نکاح کر سکتی ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




