سوال       6720

امام ذھبی نے مسعود الهمذاني کے حالات میں لکھا ہے کہ: وہ بہت اچھا آدمی تھا (اور لوگ اس پر زیادتی کرتے تو بعد میں) لوگوں کو یہ کہہ کر معاف کر دیا کرتا تھا کہ گزری ہوئی باتیں یاد نہیں کی جاتیں جو گزر گیا سو گزر گیا۔
پھر ان کی وفات کے بعد کسی نے خواب میں ان سے پوچھا کہ تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔
تو کہنے لگے: مجھے میرے رب نے اپنے سامنے کھڑا کیا اور فرمایا :اے مسعود گزری ہوئی باتیں یاد نہیں کی جاتیں جو گزر گیا سو گزر گیا (اور فرشتوں سے کہا اسے جنت میں لے چلو)۔ تاريخ الإسلام (٤٢/٣٢٧) کیا یہ واقعہ ثابت ہے؟

جواب

حافظ ذہبی نے یوں ترجمہ ذکر کیا ہے۔

ﻣﺴﻌﻮﺩ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ اﻟﺪﻻﻝ.
اﻟﻬﻤﺬاﻧﻲ، ﺷﻴﺦ اﻟﻘﻠﻨﺪﺭﻳﺔ.
ﺫﻛﺮﻩ ﺷﻴﺨﻨﺎ اﺑﻦ اﻟﺒﺰﻭﺭﻱ ﻓﻲ ﺗﺎﺭﻳﺨﻪ، ﻭﻗﺎﻝ: ﻛﺎﻥ ﻋﻠﻰ ﻗﺪﻡ ﺣﺴﻦ، ﻭﻛﺎﻥ ﻛﺜﻴﺮا ﻣﺎ ﻳﻘﻮﻝ: اﻟﻤﺎﺿﻲ ﻻ ﻳﺬﻛﺮ. ﻓﻘﻴﻞ ﺇﻧﻪ ﺭﺋﻲ ﻓﻲ اﻟﻤﻨﺎﻡ، ﻓﻘﻴﻞ ﻟﻪ: ﻣﺎ ﻓﻌﻞ اﻟﻠﻪ ﺑﻚ؟ ﻗﺎﻝ: ﺃﻭﻗﻔﻨﻲ ﺑﻴﻦ ﻳﺪﻳﻪ، ﻭﻗﺎﻝ ﻟﻲ: ﻳﺎ ﻣﺴﻌﻮﺩ اﻟﻤﺎﺿﻲ ﻻ ﻳﺬﻛﺮ، اﻧﻄﻠﻘﻮا ﺑﻪ ﺇﻟﻰ اﻟﺠﻨﺔ
تاريخ الإسلام للذهبي: 42/ 327

حافظ ذہبی نے اس واقعہ کو
ﺫﻛﺮﻩ ﺷﻴﺨﻨﺎ اﺑﻦ اﻟﺒﺰﻭﺭﻱ ﻓﻲ ﺗﺎﺭﻳﺨﻪ کے حوالے سے نقل کیا ہے
اور یہ ابن البزوری ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺑﻦ ﻣﻌﺘﻮﻕ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺑﻜﺮ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﻋﺰ اﻟﺪﻳﻦ، ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ اﺑﻦ اﻟﺒﺰﻭﺭﻱ، اﻟﺒﻐﺪاﺩﻱ، اﻟﺘﺎﺟﺮ، اﻟﺸﺎﻓﻌﻲ ہیں (المتوفی:694 ھ)
حافظ ذہبی نے ان کے ترجمہ میں کہا:

……..ﻟﻪ ﻣﺸﺎﺭﻛﺔ ﺣﺴﻨﺔ ﻓﻲ اﻟﻌﻠﻢ. ﻭﺻﻨﻒ ﺗﺎﺭﻳﺨﺎ ﻛﺒﻴﺮا ﺫﻳﻞ ﺑﻪ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﻨﺘﻈﻢ ﻻﺑﻦ اﻟﺠﻮﺯﻱ، ﺭﺃﻳﺖ ﻣﻨﻪ ﺛﻼﺙ ﻣﺠﻠﺪاﺕ ﺳﻠﻤﺖ ﻓﻲ ﺧﺰاﻧﺘﻪ اﻟﺘﻲ ﺑﺘﺮﺑﺘﻪ ﺑﺴﻔﺢ ﻗﺎﺳﻴﻮﻥ، ﻭﻛﺎﻥ ﻓﻴﻬﺎ ﺟﻤﻠﺔ ﻣﻔﻴﺪﺓ۔ [تاريخ الإسلام للذهبي :52/ 233]

اور کہا:
ﻭﻛﺎﻥ ﻧﺒﻴﻼ ﺳﺮﻳﺎ،ﺟﻤﻊ ﺗﺎﺭﻳﺨﺎ ﺫﻳﻞ ﺑﻪ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﻨﺘﻈﻢ۔
العبر في خبر من غبر:3/ 383
اور کہا: ﺻﺎﺣﺐ اﻟﺘﺎﺭﻳﺦ

ﺛﻘﺔ ﻧﺒﻴﻞ ﻣﻠﻴﺢ اﻟﺸﻜﻞ ﺣﺴﻦ اﻟﺒﺰﺓ، ﺫﻳﻞ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﻨﺘﻈﻢ ﻻﺑﻦ اﻟﺠﻮﺯﻱ ﻓﺄﻓﺎﺩ ﻭﺃﺟﺎﺩ
معجم الشيوخ الكبير للذهبي: 2/ 127 ،128

تو حافظ ذہبی نے واقعہ اسی تاریخ سے کیا ہے۔
اور مسعود بن محمد کی وفات 597 ھ بتائی جاتی ہے۔
اور ابن البزروي کی تاریخ پیدائش 630 ھ بتائی جاتی ہے۔
اور حافظ ذہبی نے اس کتاب کی تین جلدیں دیکھی ہیں۔
اب نہیں معلوم کہ یہ واقعہ صاحب تاریخ تک کیسے پہنچا ہے۔؟
البتہ اسے بالجزم اور بلا نکیر ذکر کیا گیا ہے اور اسے بطور حکایت بیان کر سکتے ہیں، باقی غیر نبی کا خواب دلیل و حجت نہیں ہوتا بس اسے مبشرات سے سمجھ کر بیان کر سکتے ہیں۔ والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ