سوال        6754

ایک شخص ہے جو صحیح کماتا ہے اگر وہ اخراجات اٹھائے تو بہت اچھا گھر کا نظام چل سکتا ہے، لیکن اپنے بچوں کا کھانے کا انتظام کرتا ہے، باقی ضروریات پہ توجہ نہیں دیتا ہے، اس کی بیوی کا ایک پلاٹ ہے 3 مرلہ اس کی ماں نے تحفے میں دیا ہے، لیکن اب وہ تعمیر ہونا ہے۔
کیا اس کی تعمیر کے لیے زکاۃ کے پاس لگائے جاسکتے ہیں؟ کیا ایسے لوگوں پہ زکاۃ لاگو ہوگی؟

جواب

دیکھیں، اگر کسی گھر کے اخراجات پورے نہیں ہو رہے اور شوہر کسی طرح قابو میں نہیں آرہا، تو بظاہر یہ لوگ مسکین معلوم ہوتے ہیں۔ اگر گھر رہائش کے لیے بنایا جا رہا ہو اور پہلا والا کرائے کا ہو، تو ایسے میں زکوٰۃ سے کچھ مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔
البتہ ممکن ہے کہ شوہر وسائل رکھنے کے باوجود محتاج دکھائی دے رہا ہو، یعنی کسی نہ کسی طرح اس کا بندوبست ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں شوہر کو تنبیہ کرنا چاہیے۔ کیونکہ حدیث کے مطابق جس کے پاس پچاس درہم ہوں وہ غنی سمجھا جاتا ہے۔ آج کے دور میں یہ رقم تقریباً چالیس سے پچاس ہزار روپے کے برابر ہو سکتی ہے۔
یعنی وسائل رکھنے والے غنی پر زکوٰۃ لاگو نہیں ہوتی، اور یہی عام قاعدہ ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ