سوال        6846

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
گھر گروی دینے کے حوالے سے دینے والے اور لینے والے کے کیا شرعی راہ نمائی ہے دلائل سے واضح فرمائیں؟

جواب

دیکھئے اسے عام طور پر قرض کچھ لے کر بطورِ گروی کے اور بطورِ زرِ ضمانت کے کچھ چیز رکھوا دی جاتی ہے اور پیسہ اس سے لے لیا مثال کے طور پر۔ اب چیز اس کی ہے جس نے رکھوائی ہے۔ جس نے رکھی ہے وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ اگر فائدہ اٹھائے گا تو کرایہ دے گا۔ مختصر وضاحت یہی ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: ایک شخص اپنا گھر گروی دیتا ہے، تو جس شخص نے گروی گھر لیا ہے، عام روٹین میں اس کا کرایہ وہ دے رہا تھا بیس ہزار، لیکن جب اس نے اس کو گھر گروی دے دیا اس نے پیسے ادا کر دیے تو وہ کہتا ہے کہ میں آپ کو نا دس ہزار دوں گا بیس نہیں دوں گا اس کی جگہ یعنی کہ پورا کرایہ تو بیس بنتا ہے میں آپ کو دس دوں گا، کیوں کہ میں نے تجھے اتنے پیسے دیے ہیں بطور۔۔۔ کیوں کہ تو نے مجھے گروی گھر دیا تھا تو اس حوالے سے ذرا وضاحت کیجیے کیا اس میں کمی بیشی کر سکتا ہے گروی جس کے پاس رکھی گئی ہے چیز؟
جواب: یہ سود ہے۔ ظاہری بات ہے کہ وہ پیسے کم کر رہا ہے، اور کہہ رہا ہے کہ ’’میں نے تجھے قرضہ دیا ہے‘‘، لیکن قرضے پر نفع لے رہا ہے۔
جیسا کہ قرآن و حدیث میں بیان ہوا: قرضٍ جر منفعةً فھو وجہٌ من وجوہ الربا یعنی ہر وہ قرض جو نفع کمانے کے لیے دیا جائے، وہ سود کا سبب بنتا ہے۔ لہذا یہ معاملہ سود کے زمرے میں آتا ہے اور بالکل جائز نہیں ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ