سوال (5504)

اگر مرد کسی وجہ سے مسجد میں نہ جا سکتا ہو، وہ گھر میں بیگم کے ساتھ جماعت کروا سکتا ہے۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت کریں؟

جواب

جی ہاں، جیسے مسجد کا امام عورتوں کو نماز پڑھا سکتا ہے، ایسے شوہر بھی اپنی بیوی کو نماز پڑھا سکتا ہے، بیٹا اپنی والدہ کو نماز پڑھا سکتا ہے، اگر میاں بیوی اکیلے ہی ہیں تو مرد آگے کھڑا ہوگا، عورت پیچھے کھڑی ہوگی، عورت اکیلی کی صف ہو گی۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سوال: اگر گھر میں دو یا زیادہ افراد موجود ہوں تو جماعت کرا سکتے ہیں یا نہیں یا مسجد میں جانا پڑے گا؟

جواب: مسجد میں نماز باجماعت کئی کبار علماء کے نزدیک فرض ہے۔

بعض کے نزدیک کچھ گنجائش والی بات ہے لیکن پہلے فریق کے دلائل کافی مضبوط ہیں جیسے عبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو اذان سننے پر مسجد حاضر ہونے کا حکم۔۔۔

اور جو لوگ مسجد باجماعت نماز میں حاضر نہیں ہوتے انکے گھروں کو جلا ڈالنے کا ارادۂ صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔

لہذا مسجد اگر بہت دور ہے تو گھر میں جماعت کروائیں لیکن اگر مسجد قریب ہے تو مسجد میں جائے بغیر گنجائش نہیں۔ واللہ اعلم

فضیلۃ العالم فہد انصاری حفظہ اللہ

سوال: دوسرا سوال اگر خاوند کسی عذر کی وجہ سے گھر میں نماز پڑھے اور اسکی بیوی اور بیٹیاں بھی ساتھ نماز پڑھ رہی ہوں تو کیا وہ انکی جماعت کروا سکتا ہے؟

جواب: عذر کیا ہے، یہ سب سے پہلے طے کرنا چاہیے، کیا عذر بارش ہے، میں ایسے بندوں کو بھی جانتا ہوں، جن کا گھر مسجد سے پچاس قدم پر ہے، وہ بارش کو عذر بنا پر گھر نماز پڑھتے ہیں، بعد میں گاقی اسٹارٹ کرکے باہر بارش انجوائے کرنے چلے جاتے ہیں، یہ کوئی عذر نہیں ہے، عذر بیماری، دشمن کا خوف تو سب سے پہلے یہ فیصلہ کریں کہ عذر کیا ہے، واقعی عذر ہو تو گھر میں جماعت کروائی جا سکتی ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ