سوال (1898)

جو شخص صبح کی سنتیں گھر میں پڑھ کے آتا ہے، جب مسجد میں آتا ہے تو وقت باقی ہے تو کیا یہ شخص تحیۃ المسجد پڑھ سکتا ہے؟ نیز یہ بتائیں کہ ایک شخص گھر میں سنتیں نہیں پڑھتا ہے، مسجد میں آکر پڑھتا ہے تو وہ تحیۃ المسجد کب پڑھے گا؟

جواب

جو شخص گھر میں سنتیں پڑھ کر آئے تو یا تو وہ پورے وقت پہ آئے جب جماعت کھڑی ہونے کا وقت ہو اور وہ پہنچے تو اقامت شروع ہو جائے اور وہ نماز میں شامل ہو جائے اور اگر پہلے آجاتا ہے اور بیٹھنا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں آئے تو دو رکعت نماز پڑھے بغیر نہ بیٹھے۔ [بخاری و مسلم]
تو وہ دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کیے بغیر نہ بیٹھے۔
البتہ جو گھر سے فجر کی دو رکعات ادا کر کے نہیں آیا تو وہ مسجد میں آکر فجر کی دو رکعت ادا کر لے تو الگ سے تحیۃ المسجد پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی اجازت ہے، جب بھی مسجد میں آئیں اور کوئی بھی نماز ادا کرلیں تو الگ سے تحیۃ المسجد ادا کرنے کی ضرورت نہیں رہتی ہے۔

فضیلۃ العالم ڈاکٹر ثناء اللہ فاروقی حفظہ اللہ

سوال: تحیۃ المسجد جب بھی مسجد میں داخل ہوگا تو پڑھی جائیگی چاہے سنتیں گھر میں ادا کر کے آیا وقت کوئی بھی فجر ہو یا کوئی وقت ہو بیٹھنا ہے، اسے پڑھنی ہوگی وگرنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی مخالفت ہوگی اور مخالفت کرنے والے کے لیے قرآن میں عذاب کی وعید ہے لہذا کوئی بھی ایسی دلیل موجود نہیں جس میں ہو کہ کی فجر کی سنتیں گھر میں پڑھ کر آنے والا شخص تحیۃ المسجد نہ پڑھے یا نہ پڑھے تو کوئی حرج نہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم ھے معمولی بات نہیں، کیا اور والی بات درست ہے اور کس حدتک درست ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔

جواب: یہ نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا حکم ہے اور فجر کی سنت و فرض کے درمیان کوئی نماز نہ پڑھنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔

اسلئے کئی کبار اہل علم کا موقف مسئلہ میں وسعت والا ہے کہ گھر سے سنتِ فجر پڑھ کر آنے والا شخص مسجد میں تحیۃ المسجد پڑھ بھی سکتا ہے اور چھوڑ بھی سکتا ہے۔

بہرحال سوال میں مذکور موقف ذرا سخت ہے۔ واللہ اعلم

فضیلۃ العالم فہد انصاری حفظہ اللہ