سوال (6432)

عام طور پر ہمارے لوگ غسل میں ایک بہت اہم غلطی کرتے ہیں۔ عموما لوگ بالٹی میں گرم پانی ڈالتے ہیں پھر خشک ہاتھ اس بالٹی میں ڈال دیتے ہیں جیسے ہی خشک ہاتھ پانی میں ڈالیں تو پھر اس پانی سے غسل نہیں ہو گا۔ کیونکہ خشک ہاتھ ڈالنے سے پانی مستعمل ہو جاتا ہے۔ اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ پہلے آپ اپنا ہاتھ گیلا کر لیں پھر بالٹی میں ڈالے پانی مستعمل نہیں ہوگا اللہ پاک ہمیں علم عطا فرمائے آمین۔ کیا یہ صحیح ہے؟

جواب

یہ درست نہیں ہے، بعض فقہاء کا قول ہے، ان کی بات مرجوح ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ

سائل: یہ بھائی کہہ رہے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلے اپنے ہاتھ دو پھر پانی میں اپنے ہاتھ ڈالو تو اس لیے وہ اس کو یہ بنیاد بنا رہے ہیں دیز کو کہ اسی طرح غسل جنابت میں بھی ہم وہ جو ٹپ پانی کے برقے اگر رکھتے ہیں اس کے اندر ہم ہاتھ نہیں ڈال سکتے اگر ہم ہاتھ ڈال لیں گے تو وہ پانی بھی جونسا ہے وہ گندا ہو جائے گا مشتمل ہو جائے گا اسے غسل ہمارا مکمل نہیں ہوگا۔
جواب: سو کر اٹھنے کی بحث حدیث میں موجود ہے، لیکن وہ بھی مسنون ہے، لیکن صرف بندے کو نجاست ہو، ہاتھ میں کوئی ظاہری نجاست نہ ہو، پانی میں ہاتھ ڈال دیا ہے تو پانی ناپاک نہیں ہوتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ان الماء لا یجنب”
«پانی جنبی نہیں ہوتا ہے»
ماء مستعمل کی بحث احناف کرتے ہیں، پانی پاک ہے تو پانی پاک ہی رہے گا، باقی یہ بحث بلا دلیل ہے، کان کا مسح بھی ماء مستعمل سے ہوتا ہے، اگر طہارت ماء مستعمل سے حاصل نہیں ہوتی، تو پھر مسح کیسے ہوتا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ