سوال (4886)

آج ایک دوست نے کال کر کے زندگی کے خاتمے کا خوف ظاہر کرتے ہوئے، کہا کہ میں نماز نہیں پڑھتا، کیا آج سے نماز شروع کروں تو گزشتہ سالوں کی نمازوں کا کیا بنے گا؟ اور اسی طرح عمدا چھوڑے ہوئے روزوں کے والے سے کیا احکام ہیں؟

جواب

ان پر صرف حقیقی توبہ کا اہتمام اور استغفار کی کثرت لازم ہے اور زندگی بھر نماز کے ساتھ دیگر فرائض کی پابندی کرنا ۔والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ

نمازوں کے بارے میں توبہ ہے، توبہ کا راستہ اختیار کریں، روزوں کے لیے توبہ و استغفار بھی کریں، باقی اہل علم کا فتویٰ ہے کہ روزوں کی قضاء آپ کو دینی ہوگی، جتنے سال کے بھی ہیں، نماز کے لیے آپ سچی توبہ اختیار کرلیں، اللہ تعالیٰ کی رحمت پر نظر رکھیں، شیطان اور وسوسوں کو قریب نہ آنے دیں، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں، اس کو ترغیب دیں، اس کو بشارتیں سنائیں، لیکن مسئلہ اس طرح ہی ہے، جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ