سوال (3687)
ایک آدمی کا سوال ہے کسی دوست نے اسے گیارہویں کے ختم کی دعوت دی تو اس نے کہا ہم یہ نہیں کھاتے تو دوست نے کہا ہم آپ کے لیے علیحدہ پلیٹ اللہ کے نام پہ نکال لیں گے؟ کیا ایسا جائز ہے۔
جواب
گیارھویں کی نیاز شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کو راضی کرنے کے لئے کی جاتی ہے اور ان ہی کے نام منسوب کی جاتی ہے جو کہ کھلا شرک ہے اسے کھانا جائز نہیں۔
باقی اپنے لئے پہلے سے ہی الگ نکلوا لینا فقط ایک حیلہ ہے، یہ دیگ تو اسی وقت غیراللہ کے نام ہوگئی تھی جب بندے نے نیت و ارادہ کرلیا تھا،
کم از کم سخت مشکوک امر ہے، اور اس طرح کرنے سے دعوتِ توحید کو سخت نقصان پہنچتا ہے لہذا اس کے جھوٹے دلاسے کے جھانسے میں نہ آئیں اور کسی بھی صورت اس کھانے میں شریک نہ ہوں۔
واللہ اعلم
فضیلۃ العالم فہد انصاری حفظہ اللہ
سائل: شیخ وہ کہتے ہیں کہ ہم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللّٰہ علیہ کے ایصالِ ثواب کے لیے کھانا بناتے ہیں ِ
جواب: لیکن اندر ہی اندر انکو خوش کرکے انکی شفاعت حاصل کرنے کی بھی نیت ہوتی ہے۔
اگر صرف ایصال ثواب کی بھی نیت ہو تو تب بھی یہ یقینی بدعت تو ہے نہ۔
اور بدعتی کھانا تناول کرنا یا اس کھانے کو حیلہ سے حلال کرکے لینا اھل بدعت کے ساتھ تعاون اور دعوت توحید و سنت کا استخفاف ہے۔
فضیلۃ العالم فہد انصاری حفظہ اللہ
سائل: باطن اور نیت کا علم تو اللّٰہ ہی جانتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ہم صرف کھانا بناتے ہیں، اور لوگوں کو کھلاتے ہیں اللّٰہ کا نام لیا جاتا ہے، اس میں کیا برائی ہے یہ صدقہ ہی تو ہے،
کسی بھوکے کو کھانا کھلانا۔
جواب: کھانا بنا کر، دن مخصوص کر کے، شخصیت مخصوص کرکے، فاتحہ و مخصوص آیات پڑھ کر مخصوص انداز سے آدم علیہ السلام سے لے کر متعین بندے تک کو ثواب پارسل کرنا کون سی آیت یا کون سی حدیث سے ثابت ہے؟
یہ ایصالِ ثواب کا خودساختہ طریقہ ہے، بدعت ہے۔
فضیلۃ العالم فہد انصاری حفظہ اللہ
سائل: ہاں جی، بس کچھ چیزوں کو مخصوص کر لینا پھر اس سے بدعت کا رستہ کھلتا ھے۔
مگر یہ باتیں عام جاہل عوام کو سمجھ میں نہیں آتی ، بہت آسان کر کے سمجھانا پڑتا ہے۔
یہ بدعت وغیرہ عام لوگوں کو معلوم ہی نہیں
خیر ہمارا کام پہنچا دینا۔۔۔
جزاک اللّٰہ خیر شیخ محترم