سوال (6474)

حدیث جاریہ کے متعلق ایک شبہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ صرف صحیح مسلم کی روایت میں جو الفاظ وارد ہیں وہ این الله کے ہیں باقی سندوں میں یہ الفاظ وارد نہیں بلکہ شہادتین کے الفاظ ہیں اسی وجہ سے یہ روایت شاذ ہے.
اس شبہ کا کیا جواب ہے جواب عنایت فرما کر اجر کے مستحق ہوں۔

جواب

شیخ البانی رحمہ اللہ نے سلسلہ صحیحہ کے اندر حدیث نمبر 3161 میں اس حدیث کے مختلف طرق و شواہد پر 35 صفحات میں گفتگو کی ہے، اور ان تمام شبہات و اعتراضات کے تاروپود بکھیرے ہیں، جو اس سے متعلق بعض اہل بدعت نے پیش کیے ہیں، خلاصہ یہ کہ اس حدیث جاریہ کو کئی ایک صحابہ کرام نے روایت کیا ہے، سب سے تفصیلی روایت صحیح مسلم والی ہی ہے جس کو معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے، کیونکہ وہ اس لونڈی کے مالک تھے، لہذا باقی روایات کو بھی اسی کے ساتھ ملا کر سمجھا جائے گا اور ان کا وہی معنی بیان کیا جائے گا جو اس روایت سے مختلف نہ ہو، اور یہ بالکل ممکن ہے جیسا کہ اہل علم نے اس کے مختلف الفاظ میں تطبیق دی ہے۔ لیکن پھر بھی اگر کوئی مخالفت نکال کر رد کرنے کی کوشش کرے، تو صحیح مسلم اور اس کے موافق روایات مضبوط ترین ہیں، لہذا شہادتین والی کمزور روایت کو رد کیا جائے گا کہ نہ کہ ’فی السماء’ والی مضبوط روایت کو۔ واللہ اعلم.
محدثین کے ہاں اس روایت میں کوئی مسئلہ نہیں، اصل میں بعض اہل علم جو سلفی عقیدے پر نہیں ہیں اور ان کے نزدیک اللہ رب العالمین کو آسمانوں میں ماننے سے اللہ رب العالمین کا علو اور جہت لازمی آتی ہے، انہوں نے اس حدیث کا اس وجہ سے انکار کرنے کی کوشش کی ہے۔
ہمارے نزدیک یہ عقیدہ بھی بالکل درست ہے اور روایت بھی بالکل صحیح ہے۔ وللہ الحمد.

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ

فرض محال ہم یہ شبہ بھی قبول کر لیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے علو اور عرش کے حوالے سے ہمارے پاس یہ ایک دلیل ہے، ایسا تو نہیں ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ