سوال 6869
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا صحیح بخاری و صحیح مسلم میں وارد وہ حدیث، جس میں ذکر کی مجلس کو فرشتوں کے پروں سے ڈھانپ لینے کا ذکر ہے، اجتماعی ذکر کی مشروعیت پر دلیل ہے؟
اگر ہاں تو اس کی حدود و قیود کیا ہیں؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
یہ صحیح حدیث ہے۔
[مسلم: 6853]
اس سے مراد نہ کسی فوت شدہ کی نسبت سے، یا اس کے ایصال ثواب کے لیے قرآن پڑھ کر بخشنا ہے نہ ہی اجتماعی ذکر مراد ہے۔بلکہ اس سے مراد درس و تدریس کے حوالے سے اکھٹے ہونا ہے۔ جیسے قرآن کلاسز ہوتی ہیں جہاں قرآن پڑھایا،سکھایا جاتا ہے۔
اجتماعی ذکر تو بدعت ہے جیسا کہ عبداللہ بن مسعود اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنھما والی حدیث میں ہے۔ (سنن دارمی#206, سندہ حسن)
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ




