سوال 6981
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ میرا ایک سوال تھا کہ عورتوں کے حیض کی وجہ سے روزے رہ جاتے ہیں وہ شوال کے روزے پہلے رکھیں یا حیض کی وجہ سے جو روزے رہ جاتے ہیں پہلے وہ رکھیں؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
بعض اہلِ علم کی رائے یہ ہے کہ جو فرض ہے، اس کی قضا پہلے ادا کی جائے۔
اور ایک دوسری رائے بھی موجود ہے۔ بہرحال انسان امید پر ہی چل رہا ہے، اور شوال کا مہینہ چونکہ محدود مدت پر مشتمل ہے، اس کا دورانیہ کم ہے، تو اگر کوئی پہلے شوال کے روزے رکھ لے اور رمضان کی قضا کو مؤخر کر دے تو اس کا جواز بھی موجود ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرمایا کرتی تھیں کہ میں رمضان کی قضا ادا نہیں کر پاتی تھی یہاں تک کہ اگلا شعبان آ جاتا۔ تو ظاہر سی بات ہے کہ درمیان میں جو نفلی روزے آتے تھے، صدیقہ کائنات ان کا اہتمام تو کرتی ہوں گی ؟
لہٰذا اس معاملے میں سختی نہیں ہے، جیسے سہولت ہو ویسے کر لیا جائے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ



