سوال         6942

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! شیخ محترم سوال ہے کہ ایک عورت حیض سے فارغ ہو کر غسل کر کے روزہ رکھ لیا اور دن بھی روٹین سے مکمل ہو گئے اور اب دن کے وقت تھوڑا سا خون آگیا جو کہ حیض کے خون سے مختلف ہے میلا سا اب اس کے لئے کیا حکم ہے؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
اصول یہ ہے کہ اگر ایام پورے ہو گئے تھے اور ٹائم پر غسل کیا ہے تو اس کے بعد یہ جو گدلا اور میلا پن ہے، “لا نعد الکدرة ولا الصفرة شیئاً” تو اس کا شمار نہیں ہوتا اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ بس پیڈ استعمال کرے اور وضو کرکے نماز ادا کرے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: اور شیخنا اگر کسی عورت کے روٹین کے دن پورے ہو گئے اور اس کے دو تین دن بعد دوبارہ حیض کے خون کی مثل دھبہ لگ گیا تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب: کسی بڑی بوڑھی عورت سے مشورہ کرے اور اس کو بتائے آنے والی چیز کیا ہے، اس کی بو کیا ہے، اس کا رنگ کیا ہے، اس کے آنے کی کیفیت کیا ہے، کیا وہ چیزیں حیض کی علامات میں شمار ہوتی ہیں؟ رنگ اور بو سے پہچانا جاتا ہے اور کیفیت سے۔ تو اگر وہ کیفیات ہیں تو پھر حیض کا حکم لگے گا، ایسا ہو جاتا ہے بسا اوقات ایک مہینے میں ایک سے زیادہ مرتبہ یا دو سے بھی زیادہ مرتبہ ایسا ہو سکتا ہے۔ تو اگر وہ علامات نہیں ہیں تو پھر استحاضہ ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ