سوال (174)

جو ہاف جرابیں ہوتی ہیں، ان پر مسح کی وضاحت مطلوب ہے؟

جواب:

جرابیں اگر ٹخنوں سے اوپر ہوں تو کوئی مسئلہ نہیں ہے، اگر جرابیں اگر اتنی ہاف ہیں کہ ٹخنے بھی ننگے ہیں تو جمہور علماء کا موقف یہ ہے کہ ان پر مسح نہیں ہے، لیکن اس کے ساتھ بعض علماء نے جواز بھی پیش کیا ہے۔ احتیاط اسی میں ہے کہ ان پر مسح نہ کیا جائے۔

فضیلۃ الباحث داؤد اسماعیل حفظہ اللہ

یہ بات صحیح ہے کہ اگر ٹخنے کھلے ہوں تو ایسی جرابوں اور موزوں پر مسح نہیں ہوگا ، مسح کے لیے ٹخنوں کا ڈھانپا ہوا ہونا لازمی ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

اگر جرابیں ٹخنوں سے نیچے ہوں تو مسح نہیں کر سکتے۔ اس بات کی کیا دلیل ہے۔
نماز میں ٹخنوں تک پاؤں دھونے کا حکم ہے۔ [المائدہ : 6]
مسح چونکہ پاوں دھونے ہی کے قائم مقام ہے لہذا مسح کے لیے یہ شرط ہے کہ جرابیں/موزے ٹخنوں تک ہوں اگر ٹخنے نہیں ڈھانپے ہوئے تو مسح نہیں ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فضیلۃ الباحث احمد بن احتشام حفظہ اللہ

سوال: شارٹ جرابوں پر مسح کرنا جائز ہے؟

جواب: وضو میں پاؤں ٹخنوں تک دھوئیں گے۔

وَاَرۡجُلَكُمۡ اِلَى الۡـكَعۡبَيۡنِ‌، المائدہ: 6

اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھو لو۔

جرابوں پر مسح چونکہ پاؤں دھونے ہی کے قائم مقام ہے لہذا انہیں جرابوں پر مسح معتبر ہوگا جو جرابیں کم از کم ٹخنوں کو ڈھانپتی ہوں۔ اگر جرابیں/ موزے ٹخنوں سے نیچے تک ہیں تو ایسی”شارٹ جرابوں/ موزوں” پر مسح نہیں کرسکتے۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ

مسح پیر دھونے کا بدل ہے، لہذا جو ٹخنوں سے نیچے جراب ہوں، ان پر مسح نہ کریں، وہ موزے جو ٹخنوں سے اوپر ہیں، باوضوء پہنیں، جو موزے ٹخنہ ڈھانپ لیں، اس پر مسح جائز ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: اور اگر شارٹ جرابیں ٹخنا ڈھانپ لیں لیکن نماز پڑھتے ہوئے وہ نیچے ہو جائیں ٹخنے سے تو اس صورت میں کیا ہو گا

جواب: وقتی طور پر نیچے ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے، جس طرح کبھی کبھی پانچے ٹخنے سے دوران نماز نیچے ہو جاتے ہیں، بندے کو بڑے دلجمی کے ساتھ رخصتیں ہیں، ان کو اختیار کرتے ہوئے، ہر قسم کا اہتمام ہو۔

“خذوا زینتکم عند کل مسجد”

اس میں ہر چیز آگئی ہے، سر تا پیر جو اہتمام ہونا چاہیے، وہ ضرور ہونا چاہیے، اور جگہ انا جانا کرتا ہے، ہر طریقے سے تیاری کرتا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: شیخ 24 گھنٹے کی مدت پوری ہونے سے وضو ختم ہو جائے گا۔

مثلا پہلا مسح عصر کی نماز پڑھنے کے لیے کیا پھر اگلے دن عصر کی نماز کے لیے وضو 24 گھنٹے پورے ہونے سے آدھا گھنٹہ یا 15 منٹ پہلے کر لیا۔

یہ وضو جب تک برقرار رہے گا نماز پڑھی جا سکتی ہے۔

یا جب 24 گھنٹے پورے ہوئے وضو ختم

جواب:  مسح کی ابتداء مسح سے ہوگی، پہننے سے نہیں ہوگی، جب فجر میں مسح کی ہے، وہ مسح دوسرے تک ظہر تک چلے گا، پھر ظہر میں کرنا ہوگا، وہاں سے آپ کا وقت اور ٹائیم اسٹارٹ ہوجائے گا، اگلی ظہر شامل نہ کریں، پانچ نماز شامل ہو جائیں گی۔ اس رائے کی وجہ یہ ہے کہ اب تک جو پڑھا ہے، اس میں یہ پڑھا ہے کہ جو فرائض ہیں، ان میں رخصتیں محدود ہوتی ہیں، فرائض پر عمل کو ترجیح دیں، جہاں تک انسان کے لیے ممکن ہو، رخصت سے رخصت تک فائدہ اٹھائیں، اس کو وسعت نہ دیں، پانچ نمازیں مکمل کرتا ہے تو چھٹی نماز کے لیے نیا مسح کرے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

ایک دن ایک رات مدت ہے مقیم شخص کے لئے، اور مسح کی مدت تب شروع ہو گی جب مسح شروع کرے گا۔

مثلا فجر کے وقت موزے،جرابیں وضو کر کے پہنے پھر اشراق یا ظہر کے لئے دوبارہ وضو کیا تو اس وقت سے مدت مسح شروع ہو گی۔ والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ