سوال (6249)

ایک لڑکی کو اُس کے شوہر نے طلاق دے کر گھر سے چلا گیا۔ دورانِ عدّت لڑکی کو پتا چلا کہ وہ حاملہ ہے، جس کا نہ لڑکی کو علم تھا اور نہ اُس کے شوہر کو۔ اب اُس کا شوہر کہہ رہا ہے کہ معلومات لی ہیں کہ حمل کے دوران طلاق واقع نہیں ہوتی، جب کہ حمل کا علم نہ لڑکی کو تھا نہ ہی اُس کے شوہر کو۔ اب اس معاملے میں رہنمائی درکار ہے؟

جواب

دوران حمل بھی طلاق ہوجاتی ہے، اس کی دلیل قرآن مجید میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حاملہ خواتین کی عدت وضع حمل بتائی ہے، تو اگر حاملہ عورت کو طلاق نہیں ہوتی ہے تو عدت کس بات کی ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ

حالت حمل میں طلاق دینا یہ سنی طلاق کہلاتی ہے، یہ سنت سے ثابت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما کو کہا تھا:

“طلقها طاهرا او حاملا”

یہ بلا وجہ باتیں ہیں، لوگوں کو لغام دینا چاہیے، حمل میں طلاق ہو جائے گی، باقی دوران حمل رجوع نہیں کیا ہے تو وضع حمل کے بعد رجوع نہیں ہوگا۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ