سوال (6576)

ایک خاتون کو اللہ تعالیٰ چوتھا بچہ دینے والے ہیں۔ اس کی طبی حالت بالکل ٹھیک ہے اور ابھی بچہ کے ہارٹ بیٹ یا روح داخل نہیں ہوئی۔ ڈاکٹرز خاتون کی رضامندی سے آپریشن کے ذریعے بچہ ضائع کرنا چاہ رہے ہیں.
سوال یہ ہے: ایسے معاملے میں قرآن، حدیث اور شریعت کے مطابق کیا حکم ہے؟
ساتھ یہ بھی بتائیں کہ اس عمل سے کیسے بچا جا سکتا ہے اور تشفی حاصل کی جا سکتی ہے؟

جواب

جب رحمِ مادر میں نطفہ قرار پا جائے تو اس کے بعد اسے ضائع کرنے کی کوئی بھی کارروائی چاہے وہ ڈی این سی ہو، ابورشن ہو، ڈاکٹر کی طرف سے ہو، خود خاتون کی طرف سے ہو یا شوہر کے کہنے پر یہ سب ایک جان کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔
یہ واضح طور پر ایک جان کو قتل کرنا ہے۔ دنیا تو سب کی گزر جاتی ہے، لیکن یہ سوچنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس پر کس طرح انتقام لیں گے۔ اللہ کے غضب اور عذاب سے ڈرنا چاہیے، اور یہ بھی سوچنا چاہیے کہ آخرت میں اس کا کیا انجام ہوگا۔
لہٰذا یہ عمل حرام ہے، جائز نہیں ہے۔ نطفہ قرار پا جانے کے بعد اسے ضائع کرنا دراصل قتل کے حکم میں آتا ہے، اور اس سے سختی کے ساتھ اجتناب لازم ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ