یہ تحریر اصلا ایک زبانی گفتگو ہے جس میں انسانی روح کو جھنجھوڑ دینے والا ایک بہترین اعتراف ہے۔ اس میں جس نفسیاتی باریکی اور دردمندی کے ساتھ ہماری نمازوں کی حالتِ زار بیان کی گئی ہے، وہ ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
اعترافِ حقیقت: ہماری بے روح نمازیں
آئیے آج ایک ایسی تلخ حقیقت کا اعتراف کریں جو روح کو زخمی کر دے۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ ہماری نمازیں مردہ ہو چکی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہماری نمازوں کا انداز کسی “سائے” یا “بھوت” کی طرح ہے؛ ایسے جسم جو حرکت کرتے ہیں، رکوع و سجود کرتے ہیں، اور ایسی زبانیں جو فصیح عربی الفاظ گنگناتی ہیں، لیکن ہمارا شعور مکمل طور پر بے جان ہوتا ہے۔ ہم لوگوں کو دھوکہ نہیں دے رہے، ہم شاید اچھے انسان ہوں، لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ ہمارا “شعور” نماز میں حاضر ہی نہیں ہوتا۔ خالقِ کائنات اور بادشاہوں کے بادشاہ کے ساتھ وہ ہیبت ناک اور وجودی ملاقات سرے سے ہی مفقود ہے۔
نماز ہمارے لیے ایک ایسی مشینی عادت بن چکی ہے جسے اعصابی نظام کا وہ حصہ کنٹرول کرتا ہے جو غیر ارادی حرکات کا ذمہ دار ہے، بالکل ویسے ہی جیسے ہم بغیر سوچے سمجھے گاڑی چلاتے ہیں۔ ہم “عضلاتی یادداشت” سے نماز پڑھ رہے ہیں، “قلبی بیداری” سے نہیں۔ ہم اتنی تیزی اور مشینی انداز میں نماز کیوں پڑھتے ہیں؟ اس سوال کا جواب نفسیاتی حقیقت کے اعتبار سے خوفناک ہے۔ ہم اللہ کے قریب ہونے کے لیے نہیں، بلکہ “احساسِ جرم” سے چھٹکارا پانے کے لیے نماز پڑھتے ہیں۔ ہمارا ضمیر ایک شور مچانے والے الارم کی طرح کام کرتا ہے جو دماغ میں چلاتا ہے: “نماز تم پر فرض ہے! نماز تم پر فرض ہے!”۔ نتیجتاً ہم کیا کرتے ہیں؟ ہم نماز کو ایک زود اثر پین کلر گولی کی طرح نگل لیتے ہیں، تاکہ ضمیر کی اس آواز کو خاموش کرا سکیں۔ ہم رضائے الٰہی نہیں، بلکہ صرف داخلی خاموشی (جان چھڑانا) چاہتے ہیں۔ نماز ہماری زندگی کے دلچسپ لمحات کے درمیان ایک بورنگ اشتہار بن کر رہ گئی ہے۔
کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ نے ‘السلام علیکم’ کہا اور اچانک احساس ہوا کہ آپ کو یاد ہی نہیں کہ سورۂ فاتحہ پڑھی تھی یا نہیں؟ جیسے ہی ہم نماز شروع کرنے کے لیے “اللہ اکبر” کہتے ہیں، شعور کمرے سے باہر نکل جاتا ہے اور باگ ڈور لا شعور کے حوالے کر دیتا ہے۔ زبان پرانی یادداشت سے الفاظ دہراتی ہے، جسم مہارت سے ورزش کرتا ہے، جبکہ عقل دفتر کے مسائل حل کرنے یا رات کے کھانے کی منصوبہ بندی کرنے نکل جاتی ہے۔ اس لمحے آپ “Flight Mode” پر ہوتے ہیں۔ آپ کا جسم تو قبلے کی طرف Online ہوتا ہے، لیکن روح اللہ کے حضور Offline ہوتی ہے۔ آپ ایک ایسی ڈیوائس بن جاتے ہیں جو چل تو رہی ہوتی ہے مگر نیٹ ورک سے کٹی ہوری ہے۔
تصور کریں کہ آپ کسی عظیم بادشاہ کو روزانہ پانچ خط بھیجتے ہیں۔ جن کا لفافہ انتہائی قیمتی، ڈاک ٹکٹ لگے ہوئے، پتا بھی درست، لیکن جب بادشاہ اسے کھولتا ہے تو وہ اندر سے بالکل خالی ہوتا ہے؛ ایک سادہ کاغذ، جس پر نہ کوئی لفظِ محبت ، نہ کوئی طلب اور نہ کسی معذرت کا اظہار۔ ہماری مشینی نمازوں کا بھی یہی حال ہے۔ ظاہری شکل (لفافہ) تو فقہی اعتبار سے درست ہے؛ وضو، قبلہ رخ ہونا، سترِ پوشی، سب مکمل ہے، لیکن اندرونی پیغام (خط) خالی ہے؛ نہ دل ہے، نہ محبت، نہ عاجزی۔ ہم خالی لفافوں کا ڈھیر لگا دیتے ہیں اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ کچھ بدل کیوں نہیں رہا؟ بدلتا اس لیے نہیں کیونکہ دل تو بھیجا ہی نہیں، ہم نے تو صرف لفافہ بھیجا ہے، اور لفافے کی جگہ ردی کی ٹوکری ہوا کرتی ہے۔
آئیے ایک نفسیاتی منظر کشی کے ذریعے سے بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس کوئی اہم مہمان آئے، آپ اس کے پاس بیٹھیں لیکن جتنی دیر اس کے ساتھ بیٹھیں اس میں بار بار اپنی گھڑی دیکھتے رہیں، بے چینی کا اظہار کریں، جلدی جلدی بات کریں اور آپ کی نظریں دروازے پر لگی ہوں، تو آپ اس مہمان کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟ آپ کا خاموش پیغام یہ ہے: “تم مجھ پر بوجھ ہو، واپس کب جاؤ گے؟”
جب ہم ایک ہی سانس میں فاتحہ پڑھتے ہیں، کوے کی طرح ٹھونگیں مار کر رکعتیں پوری کرتے ہیں اور امام کے لمبی قراءت کرنے پر کڑھتے ہیں، تو ہم زبان سے کہے بغیر اللہ کو ایک بہت تکلیف دہ پیغام دے رہے ہوتے ہیں۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ: اے رب! تجھ سے ملاقات ایک بوجھ ہے اور میں جلد از جلد اپنے معمولات زندگی کی طرف لوٹنا چاہتا ہوں۔ ہم نماز کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جیسے یہ کوئی ٹیکس ہو جس سے بچنا ہے، نہ کہ کوئی مال غنیمت جسے حاصل کرنا ہے۔ ہمیں بس یہ فکر ہوتی ہے کہ ہماری ذمہنداری پوری ہو جائے۔ ہم فقہی درستی پر توجہ دیتے ہیں لیکن قلبی تعلق کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم بس حاضری رجسٹر پر دستخط کرنا چاہتے ہیں تاکہ جہنم سے بچ جائیں، لیکن اس نماز سے ہم “قربِ الٰہی کی جنت” کی خوشبو نہیں پا سکتے۔
تمام تر گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ خدارا
بادشاہ کو “مردہ لاش” تحفے میں مت دیں۔ اے وہ شخص جس کا دل نیکیاں پیدا کرنے والی ایک “سرد مشین” میں بدل چکا ہے، میں خود سے اور آپ سے کہتا ہوں: بغیر خشوع کے نماز ایسی ہے جیسے روح کے بغیر جسم، اور بے روح جسم کو ہماری زبان میں “لاش” کہا جاتا ہے۔ کیا کوئی غلام یہ جرات کر سکتا ہے کہ بادشاہوں کے بادشاہ کے دربار میں اپنا دل پیش کرنے کے بجائے نماز کی ایک مردہ لاش لے کر جائے؟ اور پھر اس پر انعام کی توقع بھی رکھے؟
رکیے! ٹھہریے! آپ کی نماز خطرے میں ہے کیونکہ یہ بنا روح کے اوپر بھیجی جا رہی ہے۔
اپنی نماز پر نظرِ ثانی کر لیجیے۔
عربی گفتگو سے مترجم تحریر
کاوش: ڈاکٹر محمد عمران صارم
یہ بھی پڑھیں: نمازِ عیدین سے پہلے اذان واقامت اور ندا نہ ہونا



