سوال (827)

کیا حاملہ خاتون روزہ رکھ سکتی ہے؟

جواب

عرب علماء کا یہ رجحان ہے کہ اگر ابھی روزہ چھوڑ دیتی ہے تو بعد میں روزہ رکھے گی یعنی اس کا حکم مریض کی طرح ہے، لیکن برصغیر پاک و ہند میں جہاں تک میرا مطالعہ ہے کہ اس پر فتویٰ دیا جاتا رہا ہے کہ حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت دونوں کو روزہ چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں تو اس روزے کا فدیہ دیں گی، اگر ہمت والی ہے تو رکھے، اگر نہیں رکھنا چاہتی ہے تو دودھ پلانے کی مدت میں بھی روزہ چھوڑدے، فدیہ دے دے، اس پر کوئی قضاء نہیں ہے، غالباً سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما یا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بھی یہی فتویٰ ہے۔ تفصیل نیل الاوطار میں دیکھی جا سکتی ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

حاملہ یا دودھ پلانے والی عورت نے اگر روزے نہیں رکھے اور فدیہ دے دیا تو یہ اس کے لیے کافی ہے۔ قضا دینے کی ضرورت نہیں۔

عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْهُ وَهِىَ حُبْلَى فَقَالَ أَفْطِرِى وَأَطْعِمِى عَنْ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا وَلاَ تَقْضِى. [سنن دار قطنی: 2354]

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے بارے میں یہ منقول ہے ان کی اہلیہ نے ان سے سوال کیا وہ خاتون حاملہ تھیں تو حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا تم روزے رکھنے چھوڑدو اور ایک دن کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلادیاکرو بعد میں اس کی قضاء بھی نہیں کرنا۔ [سندہ,صحیح]

ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب

فضیلۃ الباحث احمد بن احتشام حفظہ اللہ

بارك الله فيكم! اس مسئلہ میں بہت زیادہ تفصیل ہے، آثار سلف صالحین مختلف ہیں، دلائل کی روشنی میں قضاء ہی راجح ہے ما سوائے دائمی مریض اور نہایت زیادہ بوڑھے شخص کے۔

هذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ

سائل: اگر عورت آٹھ ماہ کی حاملہ ہو تو کیا اس حالت میں بھی روزے گی؟

جواب: وہ روزہ رکھے اگر نہ نبھا سکے تو کھول دے، بعد میں قضاء دے دے، ہماری مائیں پہلے روزہ رکھتی تھی، آج کل عورتیں کچھ زیادہ نازک ہیں، اس کی وجہ غلط خوراک اور بے تحاشہ خوراک ہے، پہلے غربت تھی، لیکن ان کا خوراک اچھا تھا۔

فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ

سوال: السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
سوال ہے کہ حاملہ عورت کو روزوں کی معافی ہے، اب وہ بعد میں قضائی دے گی یا ہر روز ایک مسکین کو کھانا کھلائے گی؟
جواب: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ،
روزے کی معافی تو کسی کو بھی نہیں ہے۔ اور روزے کی قضا ہی دینا بہتر ہے، قرآن کہتا ہے:

“وَأَن تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ”

کہ تم روزہ رکھو یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ جو مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے یہ تو اس شکل میں ہے، جبکہ روزہ کسی شکل میں نہ رکھا جا سکے۔ تو جب روزہ رکھنے کی سکت ہے تو پھر قضا ہی دینا اصل ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبدالرزاق زاہد حفظہ اللہ

اس مسئلے میں ایک رائے تو وہی ہے جو شیخِ محترم نے بیان فرمائی ہے۔ لیکن ایک اور رائے بھی ہے، جس میں یُسر اور آسانی زیادہ ہے۔ اس کے مطابق: جو عورت حاملہ ہے یا مُرضعہ (دودھ پلانے والی) ہے، اسے روزہ قضا کرنے کی سخت ضرورت نہیں، بلکہ وہ صرف فدیہ دے دے۔ یعنی روزہ چھوڑ دے اور فدیہ ادا کرے، یہ شرعی طور پر جائز ہے۔ اس میں آسانی اور سہولت زیادہ ہے، کیونکہ عورتیں طبی طور پر کمزور بھی ہوتی ہیں اور ان پر عام طور پر کئی سالوں کے روزے جمع ہو جاتے ہیں، جس سے ان کی صحت پر بوجھ پڑ سکتا ہے۔
البتہ جو عورت طاقت رکھتی ہے، وہ روزے قضا کر سکتی ہے، اور شیخ نے اس بات کو واضح کر دیا ہے۔ کیونکہ حاملہ اور مُرضعہ ہونے کی حالت میں، روزے جمع ہونے سے بعض اوقات پریشانی پیدا ہو جاتی ہے، اس لیے آسانی اور سہولت کی رعایت دی گئی ہے۔
یوں ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ایسے حالات میں عورت صرف فدیہ دے کر روزہ چھوڑ سکتی ہے، اور یہ شرعی طور پر جائز اور درست ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ