سوال 6986

مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ اَلْحُسَيْنِ بِإِسْنَادِهِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ عَمْرٍو وَ أَنَسِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ آبَائِهِ عَلَيْهِمُ اَلسَّلاَمُ فِي وَصِيَّةِ اَلنَّبِيِّ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ لِعَلِيٍّ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ قَالَ: يَا عَلِيُّ حَقُّ اَلْوَلَدِ عَلَى وَالِدِهِ أَنْ يُحَسِّنَ اِسْمَهُ وَ أَدَبَهُ وَ يَضَعَهُ مَوْضِعاً صَالِحاً وَ حَقُّ اَلْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ أَنْ لاَ يُسَمِّيَهُ بِاسْمِهِ وَ لاَ يَمْشِيَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَ لاَ يَجْلِسَ أَمَامَهُ وَ لاَ يَدْخُلَ مَعَهُ اَلْحَمَّامَ يَا عَلِيُّ لَعَنَ اَللَّهُ وَالِدَيْنِ حَمَلاَ وَلَدَهُمَا عَلَى عُقُوقِهِمَا يَا عَلِيُّ يَلْزَمُ اَلْوَالِدَيْنِ مِنْ عُقُوقِ وَلَدِهِمَا مَا يَلْزَمُ اَلْوَلَدَ لَهُمَا مِنْ عُقُوقِهِمَا يَا عَلِيُّ رَحِمَ اَللَّهُ وَالِدَيْنِ حَمَلاَ وَلَدَهُمَا عَلَى بِرِّهِمَا يَا عَلِيُّ مَنْ أَحْزَنَ وَالِدَيْهِ فَقَدْ عَقَّهُمَا.
[تفصیل وسائل الشیعة إلی تحصیل مسائل الشریعة , جلد۲۱ , صفحه۳۸۹
عنوان باب: الجزء الحادي و العشرون [تتمة كتاب النكاح] أَبْوَابُ أَحْكَامِ الْأَوْلادِ 22 – بَابُ اِسْتِحْبَابِ تَسْمِيَةِ اَلْوَلَدِ بِاسْمٍ حَسَنٍ وَ تَغْيِيرِ اسْمِهِ إِنْ كَانَ غَيْرَ حَسَنٍ وَ جُمْلَةٍ مِنْ حُقُوقِ الْوَلَدِ وَ الْوَالِدَيْنِ

محمد بن علی بن حسین نے اپنی سند کے ساتھ حَمَّاد بن عَمْرو اور اَنَس بن محمد سے، وہ اپنے والد سے، وہ جعفر بن محمد علیہ السلام سے، وہ اپنے آباء کرام علیہم السلام سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: “اے علی! اولاد کا اپنے والد پر یہ حق ہے کہ وہ اس کا نام اچھا رکھے، اسے اچھا ادب سکھائے، اور اسے نیک اور صالح ماحول میں رکھے۔ اور والد کا اپنی اولاد پر یہ حق ہے کہ وہ والد کو اس کے نام سے نہ پکارے، اس کے آگے نہ چلے، اس کے سامنے نہ بیٹھے، اور اس کے ساتھ حمام (غسل خانے) میں داخل نہ ہو۔
اے علی!اللہ کی لعنت ہو ان والدین پر جو اپنی اولاد کو اپنی نافرمانی پر مجبور کریں۔
اے علی!جس طرح اولاد پر والدین کی نافرمانی حرام ہے، اسی طرح والدین پر بھی اپنی اولاد کے حق میں ظلم اور ان کی نافرمانی کا سبب بننا حرام ہے۔
اے علی!اللہ تعالیٰ ان والدین پر رحم کرے جو اپنی اولاد کو نیکی اور فرمانبرداری کی طرف راغب کریں۔
اے علی!جس نے اپنے والدین کو غمگین کیا، بے شک اس نے ان کی نافرمانی کی۔”
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا یہ حدیث صحیح ہے؟

جواب

میرے علم کے مطابق اس روایت کا کوئی ثبوت کتب احادیث میں نہیں ملتا ہے
البتہ ﺣﻖ اﻟﻮﻟﺪ ﻋﻠﻰ ﻭاﻟﺪﻩ ﺃﻥ ﻳﺤﺴﻦ اﺳﻤﻪ ۔۔۔ کے الفاظ سے یہ روایت الترغیب والترهيب لقوام السنة:(595 ،596 ،597) وغیرہ میں ہے اور سخت ضعیف ہے۔
تفصیل دیکھیے الضعيفة للألباني: (3494 ،3495) میں
البتہ النفقة على العيال لابن أبي الدنيا: 171 میں ایک أثر یوں ملتا ہے:

ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺟﻤﻴﻞ، ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ اﻟﻤﺒﺎﺭﻙ، ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﺳﻔﻴﺎﻥ، ﻗﺎﻝ: ﻛﺎﻥ ﻳﻘﺎﻝ: ﺣﻖ اﻟﻮﻟﺪ ﻋﻠﻰ ﻭاﻟﺪﻩ ﺃﻥ ﻳﺤﺴﻦ اﺳﻤﻪ ﻭﺃﻥ ﻳﺰﻭﺟﻪ ﺇﺫا ﺑﻠﻎ ﻭﺃﻥ ﻳﺤﺠﺠﻪ ﻭﺃﻥ ﻳﺤﺴﻦ ﺃﺩﺑﻪ۔

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ