سوال (2427)
کیا ہر مردے کو مرحوم کہہ سکتے ہیں؟
جواب
بعض علماء کی طرف سے یہ بات سننے میں آ رہی ہے، حالانکہ یہ کوئی پیچیدہ مسئلہ نہیں ہے، صحیح بات یہ ہے کہ مرحوم کا معنیٰ وہی لیا جائے گا جو “رحمۃ اللہ علیہ” کا ہے، گویا ہم اس کو دعا دے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس پر رحمت کرے یا امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو رحمت عطاء فرمائے گا، پھر اس میں کوئی حرج نہیں ہے، یہ صیغے ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوجاتے ہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سوال: السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
میت کو مرحوم کہنے کا حکم کیا ہے دلائل کے روشنی میں بتائیں؟
جواب: وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
میت کے لیے لفظ “مرحوم” استعمال کرنے کے حوالے سے دو پہلو اہم ہیں:
پہلا پہلو یہ ہے کہ اسے دعائیہ انداز میں استعمال کیا جائے، یعنی اس سے مراد یہ ہو کہ ہم اللہ تعالیٰ سے اس شخص کے لیے رحم کی دعا کر رہے ہیں یا اللہ کی ذات سے حسنِ ظن (اچھی امید) رکھ رہے ہیں کہ اس پر رحم کیا گیا ہوگا۔ اس نیت سے میت کو “مرحوم” یا “شہید” کہنا جائز ہے۔
دوسرا پہلو یہ ہے کہ حقیقت میں کسی کے “مرحوم” یا “شہید” ہونے کا قطعی علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ کوئی انسان یقینی طور پر یہ نہیں جان سکتا کہ اللہ کے ہاں کسی کا کیا مقام ہے۔ اسی لیے علمائے کرام یہ مشورہ دیتے ہیں کہ ان الفاظ کے ساتھ “ان شاء اللہ” کا اضافہ کر لینا چاہیے، مثلاً “مرحوم ان شاء اللہ” یا “شہید ان شاء اللہ”۔
خلاصہ یہ کہ کسی شخص کے بارے میں حتمی طور پر یہ گواہی دینا کہ وہ یقیناً بخشا گیا ہے یا شہید ہے، کسی بھی انسان کے لیے جائز نہیں ہے کیونکہ یہ علمِ غیب ہے۔ تاہم، اگر مقصد صرف دعا اور حسنِ ظن کا اظہار ہو تو ان الفاظ کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے۔
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ




