سوال       6760

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
سوال ہے کہ شراب خانے میں کام کرنا صفائی وغیرہ اور شراب نہ پینا شرعا کیسا ہے؟ وہ کمائی کیسی ہے؟ اور اسی میوزک کی شاپ پر کام کرنا یا اس سے ملتی جلتی جگہ پر کام کرنا اس کی کمائی کا بھی کیا حکم ہے؟ جواب مطلوب ہے۔

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا واضح حکم ہے:

“وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ”

یعنی سرکشی، بغاوت اور گناہ کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون نہ کرو۔ تو یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہ بھی تعاون ہی میں آتا ہے۔
مثال کے طور پر شراب حرام ہے۔ اب چاہے کوئی اس کی تیاری کرے، فروخت کرے، دکان کا شٹر اٹھائے یا وہاں صفائی کرے—یہ سب اسی حرام کام میں تعاون ہے۔ چونکہ ادارہ ہی ناجائز ہے اس لیے اس کی ہر قسم کی نوکری ناجائز ہوگی۔
بالکل اسی طرح سودی بینک ہیں، ان کا نظام ہی حرام ہے، لہٰذا وہاں کی ہر قسم کی نوکری ناجائز سمجھی جاتی ہے۔
اسی اصول پر اگر کوئی جگہ صرف موسیقی کا کلب ہو یا خاص موسیقی کی دکان ہو، جہاں اور کوئی کام نہ کیا جاتا ہو، تو وہ بھی اسی حکم میں آئے گی۔ کیونکہ اسلام میں موسیقی کا خریدنا، بیچنا، اسے فروغ دینا اور سننا جائز نہیں۔ بلکہ یہ تو قیامت کی نشانیوں میں شمار کیا گیا ہے۔ جیسا کہ صحیح بخاری کی حدیث میں آیا ہے اور آج ہی اللہ کی توفیق سے اس کا ذکر ہوا کہ ایک وقت آئے گا جب لوگ طبلے، سارنگی اور موسیقی کے آلات کو حلال سمجھ لیں گے۔
لہذا اصول ایک ہی ہے: جو کام بذاتِ خود حرام ہو، اس میں براہِ راست یا بالواسطہ کسی بھی درجے میں تعاون جائز نہیں۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ