سوال       6782

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک بندہ حرام کماتا ہے اور حرام کمائی سے عمرہ کرتا ہے اور وہاں سے آب زم زم اور کھجوریں لاتا ہے تو کیا اس کو کھا سکتے ہیں اور یہ بھی کنفرم ہے کہ یہ عمرہ حرام کی کمائی کا ہے؟

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مستقل بنیادوں پر ایسے لوگوں کے ہاں اٹھنا بیٹھنا تو صحیح نہیں ہوتا، لیکن کبھی کبھار کوئی ماحول بن جاتا ہے تو پھر گنجائش ہوتی ہے۔ دعوتی پہلو کو غالب رکھیں، جب موقع ملے اس کی اصلاح کی کوشش کریں۔ تو اگر وہ ایک تحفہ لے آئے آپ کے لیے آپ اسے قبول کر لیں۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: قبول کر لیا ہے، اسی سوچ کی وجہ سے اب اس کو استعمال کرنے کا پوچھ رہا ہوں، اس کو کھانا اور پینا۔
جواب: قبول کا مطلب یہی ہے کہ آپ اسے استعمال کر لیں، مستقل بنیادوں پر دعوتیں اڑانا اور چیز ہے، کبھی کبھار مسلمان ہونے کے ناطے سے اس کا تحفہ لے لینا اور بات ہے، اس لئے کہ دعوت کا دروازہ آپ کا کھلا رہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ