سوال 6677
ایک شخص کی کمائی حرام کی ہے۔ جوا سے وہ کماتا ہے۔ کچھ اہل حدیث افراد جو اس کے قریبی رشتہ دار ہیں، وہ اس کے گھر جاتے ہیں تو کچھ بھی کھاتے پیتے نہیں ہیں۔
اب وہ شخص بھی ایسا ہی کرنے لگا ہے اور خاندان میں فتنہ کی شکل بن گئی ہے۔ اس صورت میں شرعی قاعدہ کیا ہے؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
ایسے معاملات واقعی ہر دوسرے گھر میں پائے جاتے ہیں، جہاں لوگوں کی آمدنی کے بارے میں احباب، اقارب یا دیگر افراد شکوک و شبہات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ اس طرح کے حالات میں حکمت، اعتدال اور دعوتی بصیرت کے ساتھ معاملہ کرنا نہایت ضروری ہے۔
اصل اصول یہ ہے کہ دعوت و اصلاح کا پہلو غالب رہے۔ اس لیے نہ تو جان بوجھ کر ایسی دعوتوں کی تلاش کی جائے اور نہ ہی سختی اختیار کرتے ہوئے ہر حال میں مکمل کنارہ کشی کر لی جائے۔ اگر کبھی اتفاقاً وہاں جانا ہو جائے، مختصر سی نشست ہو، چائے پانی ہو جائے اور انسان خاموشی سے واپس آ جائے تو اس میں حرج نہیں۔ ساتھ ہی مناسب موقع دیکھ کر رزقِ حلال کی اہمیت پر کوئی بات، نصیحت یا خیرخواہی پر مبنی اشارہ کر دینا چاہیے، تاکہ پیغام بھی پہنچتا رہے اور تعلق بھی برقرار رہے۔
اسی طرح کبھی کسی تقریب میں شرکت کر لی اور کبھی معذرت کر لی یعنی معاملہ بین بین رکھا جائے۔ ایسا تشدد اور سختی درست نہیں کہ بات قطع رحمی تک پہنچ جائے اور خاندانی فضا خراب ہو جائے۔ کیونکہ اس رویے کا نتیجہ اکثر یہ ہوتا ہے کہ سامنے والا اصلاح قبول کرنے کے بجائے مزید متنفر ہو جاتا ہے، جو شرعاً اور دعوتی اعتبار سے مطلوب نہیں۔
اس سلسلے میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک اثر بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ آپؓ سے پوچھا گیا کہ میرا ایک دوست ہے جس کی کمائی کو میں خبیث سمجھتا ہوں، لیکن ہماری دوستی اس درجے کی ہے کہ اگر میں اس کے پاس نہ جاؤں تو اسے تکلیف ہوتی ہے۔ آپؓ نے فرمایا: اس کا گناہ اسی پر ہے، تم اس کے پاس جایا کرو۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب مقصد اصلاح اور خیرخواہی ہو، تو ایسی نشست و برخاست کی گنجائش موجود ہے۔
لہذا خلاصہ یہ ہے کہ اگر دعوتی مقصد، اصلاح کی نیت اور خیرخواہی کا جذبہ غالب ہو، تو کبھی کبھار حرام کمائی کرنے والے شخص کے ساتھ میل جول اور اس کے ہاں مختصر نشست و برخاست ہو سکتی ہے، بشرطیکہ انسان خود اس کے حرام میں شریک نہ ہو اور اصولی طور پر حلال و حرام کا فرق دل میں واضح رکھے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




