سوال 6999
ایک خاتون کو PCOS (ہارمونل بیماری) کی وجہ سے مہینے میں دو یا تین بار خون آتا ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق یہ حیض کا خون ہے، لیکن اس کی آمد عادت کے خلاف اور بار بار ہوتی ہے۔ کیا ہر بار اسے حیض شمار کیا جائے اور نماز و روزہ چھوڑے جائیں؟ نیز رمضان میں پیریڈ روکنے کی ادویات استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
یقیناً ڈاکٹر بھی کبھی کبھار سچ ہی کہتے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں۔ میڈیکل سائنس بھی بعض اوقات درست رہنمائی دیتی ہے۔ لیکن عورتوں کے ماہانہ ایام کے معاملے میں خاندان کی بڑی بوڑھی اور جہاں دیدہ عورتیں اس کو زیادہ بہتر جانتی ہیں، اور اس طرف اشارات بھی ملتے ہیں، حتیٰ کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے۔ اس لیے کسی بڑی بوڑھی عورت سے بھی مسئلہ سمجھنے میں مدد لی جا سکتی ہے۔
حیض کا فیصلہ تین چیزوں سے کیا جاتا ہے: اس کا رنگ، اس کی بو، اور اس کے آنے کی کیفیت۔ انہی بنیادوں پر طے کیا جائے گا کہ یہ حیض ہے یا کچھ اور، لہٰذا انہی پر فوکس کر کے چلیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ مہینے میں ایک سے زیادہ مرتبہ آ جانا جی ہاں، ایسا ہو سکتا ہے۔ ایک عورت ایک مہینے میں دو یا تین مرتبہ بھی حائضہ ہو سکتی ہے، اس میں کوئی اشکال نہیں۔ تکلیف ضرور ہے، لیکن یہ کہنا کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا، درست نہیں۔
البتہ ضروری یہ ہے کہ اچھی طرح جانچ کی جائے۔ رنگ، بو اور کیفیت کی بنیاد پر فیصلہ ہوگا کہ آنے والا خون حیض ہے یا خونِ فاسد۔
اگر حیض ہے تو نماز اور روزہ چھوڑنا ہوگا، اور اگر خونِ فاسد ہے تو پیڈ وغیرہ استعمال کر کے ایک وضو سے ایک مکمل نماز (سنتوں سمیت) ادا کی جا سکتی ہے، اور روزہ بھی رکھا جا سکتا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ



