سوال (6224)
السنن الكبرى للنسائي (5/ 176)
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْكُوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ نَهَارٍ الْعَبْدِيِّ، وَهُوَ مَدَنِيٌّ لَا بَأْسَ بِهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ بِابْنَةٍ لَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَذِهِ ابْنَتِي أَبَتْ أَنْ تَزَوَّجَ، فَقَالَ: «أَطِيعِي أَبَاكِ» كُلُّ ذَلِكَ تُرَدِّدُ عَلَيْهِ مَقَالَتَهَا، فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَتَزَوَّجُ حَتَّى تُخْبِرَنِي مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ، فَقَالَ: «حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ لَوْ كَانَتْ بِهِ قُرْحَةٌ، فَلَحَسَتْهَا مَا أَدَّتْ حَقَّهُ»، فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَتَزَوَّجُ أَبَدًا، فَقَالَ: «لَا تُنْكِحُوهُنَّ إِلَّا بِإِذْنِهِنَّ»
کیا یہ روایت صحیح ہے؟
جواب
اس روایت پر میرا حکم حسن لذاتہ کا ہے ربیعہ بن عثمان راوی
ثقة ربما وھم، أو ثقة یھم قلیلا ہے اس کو امام وکیع بن الجراح نے، امام یحیی بن معین، امام ابن سعد، امام حاکم، امام ابن نمیر نے مطلقا ثقہ قرار دیا ہے اور امام ابو حاتم الرازی کی جرح تشدد وتعنت پر مشتمل ہے۔
امام ابو زرعہ الرازی نے ﻭﻟﻴﺲ ﺑﺬاﻙ اﻟﻘﻮﻱ کی جرح کر کے بتا دیا کہ اس کے ضبط میں کچھ کمی ہے۔
امام مسلم نے اس سے الصحیح میں، امام ابن الجارود نے المنتقی میں، امام ابن حبان نے الصحیح من حدیث لی اور کتاب الثقات، مشاهير علماء الأمصار میں ذکر کیا۔
اس راوی پر ایسی کوئی جرح نہیں کہ اس طرح کی روایت کے قبول کرنے میں قادح ہو۔
ہاں جہاں روایت ثقات کی روایت کے مخالف یا خطاء پر مبنی ہو گی وہاں قبول نہیں کریں گے۔
اس میں شوہر کی عظمت اور مقام بتانا ہے۔
رہا مسئلہ اس خاتون کا تو اس نے اشوہر کے اس قدر عظمت ومقام کو سن کر کہا کہ میں شادی نہیں کروں گی کہ کہیں مجھ سے شوہر کی نافرمانی نہ ہو جائے اور میں گنہگار ہوں جاؤں۔
یہ ایسے ہی ہے جیسے صحابہ کرام حدیث رسول صلی الله علیہ وسلم اس حدیث کے سبب بیان نہیں کرتے تھے من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار،
یعنی یہ ان کی حد درجہ احتیاط تھی۔ هذا ما عندي والله أعلم
یہی راجح ہے۔ ثقہ کہنے والوں میں امام دارقطنی کا نام سھو ہے درست امام حاکم ہے۔
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ




