سوال 7023

السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
سورۃ البقرہ کی آیت 259 میں ایک نبی (حضرتِ عزیر علیہ السّلام) کا ذکر آیا ہے کہ اللّٰہ نے انہیں حیات و موت کا فلسفہ سمجھانے کے لیے 100 سال کے لیے سلا دیا تھا، تو اس دوران ان کے گھر والوں کا کیا احوال تھا اور سو سال بعد ان کے بیوی بچوں کا کیا معاملہ ہوا تھا؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
سورہ البقرہ کی آیت میں جو عبارت ہے:

اَوْ كَالَّذِيْ مَرَّ عَلٰى قَرْيَةٍ وَّهِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا

اس میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ مذکورہ شخص کون تھے۔ تاہم زیادہ تر علما کا رجحان یہی ہے کہ یہ حضرت عزیر علیہ السلام ہیں۔ اسی طرح بستی کے حوالے سے بھی اختلاف ہے، لیکن غالباً یہ بیت المقدس تھی، جو بخت نصر کے دور میں یا قدرتی وجوہات سے خالی اور خراب ہو گئی تھی۔
اہل خانہ کے متعلق کچھ تفاسیر اور ویب سائٹس میں تاریخی طور پر ذکر ملتا ہے کہ جب حضرت عزیر علیہ السلام بیدار ہوئے تو بعض اہل خانہ فوت ہو چکے تھے اور بعض بڑی عمر کے ہو چکے تھے۔ اس طرح، معجزاتی انداز میں، جیسے اصحاب کہف کے واقعے میں، وہ اپنے اہل خانہ کو نشانیوں سے پہچان سکے۔
ان کی عمر اس وقت تقریباً چالیس سال تھی، اور سو سال کے بعد بیدار ہونے پر ان کی عمر تقریباً سو چالیس سال ہو گئی۔
البتہ یہ باتیں تاریخی حوالے سے ہیں اور کوئی مستند دینی روایت پر مبنی نہیں ہیں، لہٰذا ایمانیات، عقائد یا عملی امور پر ان کا کوئی اثر نہیں ہے۔
یہ تمام معلومات محض سمجھ بوجھ اور تاریخی تفسیر کے لیے ہیں، اور اصل توجہ قرآن و سنت کی تعلیمات اور ان کے اخلاقی و عملی اسباق پر ہونی چاہیے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ