حجاب ڈے منانا

عبادات کے لیے کسی خاص دن یا وقت کو مقرر کرنا، چاہے وہ کسی عبادت کی یاد تازہ کرنے کے لیے ہو یا لوگوں کو اس کی طرف رغبت دلانے کے لیے، شریعت میں درست نہیں ہے۔ اسی طرح مختلف مواقع جیسے میلادِ نبوی ﷺ، یومِ ماں (مَدر ڈے)، ہفتۂ مساجد یا عالمی یومِ حجاب وغیرہ منانا بھی بدعت میں داخل ہے؛ کیونکہ عبادات کا اصل اصول یہ ہے کہ وہ توقیفی ہوتی ہیں، یعنی صرف وہی عبادات مشروع ہیں جن کی دلیل قرآن و سنت میں موجود ہو، اور ان کے لیے کوئی خاص وقت یا طریقہ بھی بغیر دلیل کے مقرر نہیں کیا جا سکتا۔
نبی کریم ﷺ سے صحیح احادیث میں ثابت ہے کہ: ’’جس نے ہمارے اس دین میں کوئی نئی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے۔‘‘ اس اصول کی روشنی میں ایسے تمام مخصوص ایام یا ہفتے مقرر کرنا جن کی کوئی شرعی اصل نہ ہو، بدعت شمار ہوں گے۔
اگر یہ کہا جائے کہ زمانہ بدل گیا ہے اور لوگوں کو حجاب یا دیگر عبادات کی طرف متوجہ کرنے کے لیے اس طرح کے دن منانا ضروری ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ دین کو لوگوں کے حالات کے مطابق تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے بھی یہ اصول بیان کیا ہے کہ لوگوں میں گناہوں کی کثرت یا دین سے دوری اس بات کا جواز نہیں بنتی کہ دین میں نئی چیزیں ایجاد کی جائیں، بلکہ لوگوں کو اصل دین کی طرف واپس بلایا جائے۔
لہٰذا زمانے کے بدلنے، گناہوں کے بڑھنے یا لوگوں کی کمزوری کو بنیاد بنا کر دین میں نئی چیزیں شامل کرنا درست نہیں۔ اگر اس طرح کے اعمال میں کوئی حقیقی خیر ہوتی تو نبی کریم ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ضرور اس پر عمل کرتے۔

(شیخ عبد العزيز الریس حفظہ اللہ | https://youtu.be/jViOsh0xWsA?si=5eU8onj_70dmjrBA)

یہ بھی پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ کے حالات اور ایک صدی کی جنگوں کا محاسبہ