سوال 6792
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
شیخ محترم ایک مریض ہسپتال میں داخل ہے ہوش وحواس میں ہے، لیکن چل پھر نہیں سکتا ہے، اس نے تقریباً ڈیڑھ ماہ نمازیں نہیں پڑھیں ہیں، اب کیا وہ نمازیں قضا کرے گا؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ہماری معلومات کے مطابق، جب تک ہوش و حواس برقرار ہیں، انسان پر نماز فرض ہے اور اسے ادا کرنا چاہیے۔ ایک حدیث میں اشارے سے نماز پڑھنے کا ذکر بھی ملتا ہے، یعنی اگر کسی حالت میں بیٹھ کر یا لیٹ کر اشارے سے نماز ادا کرنا ممکن ہو، تو وہ بھی جائز اور قابل قبول ہے۔
لہذا گھر والے، چاہے وہ مسلمان ہوں یا دین دوست، انہیں اس بات کی فکر ہونی چاہیے تھی کہ اس شخص کی نمازیں ادا ہوں۔ اگر وضو ہو سکتا تھا تو وضو کے ساتھ، اور اگر تیمم ممکن تھا تو تیمم کے ساتھ نماز پڑھنی چاہیے تھی۔
ہماری معلومات کے مطابق، اس صورت میں یہ نمازیں بعد میں قضا کی جائیں گی۔ یہ قضا عمری (زندگی کے مخصوص وقت کے بعد ادا نہ کرنے کی وجہ سے) نہیں ہے، بلکہ بیماری یا پریشانی کی وجہ سے وقتی طور پر ادا نہ ہونے کی صورت ہے۔
یعنی، ایسی صورتوں میں جب عقل و حواس موجود ہوں، نماز معاف نہیں ہوتی اور بعد میں اسے قضا کرنا لازم ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




