سوال (1249)
کیا غرباء کے علاج کے لیے ہسپتال کو زکاۃ دی جا سکتی ہے؟
جواب
ہاسپٹل کو زکاۃ نہیں دے سکتے ہیں ، زکاۃ میں غرباء کو مالک بنانا ہے وہ اپنی مرضی کے مطابق خرچ کریں ، بعض خاص صورتوں میں جائز ہے ، مثلاً کوئی مستحق آپ کو کہہ دے کہ ان پیسوں کی فلان فلاں ادویات خرید کر دے دیجیے تو جواز کی صورت ہو سکتی ہے۔
فضیلۃ الباحث اسامہ شوکت حفظہ اللہ
سائل: کیا کسی ایسے ہاسپٹل میں زکاۃ دی جاسکتی ہے جس میں بلا تفریق امیر غریب سب کا علاج مفت ہوتا ہے مگر اکثریت غریبوں کی ہوتی ہے؟
جواب: ہاسپٹل مصارف زکاۃ میں سے نہیں ہے۔ أگرچہ اس میں صرف غریبوں کا مفت ہی علاج کیا جاتا ہو۔
لہذا اس کو زکاۃ نہیں دی جاسکتی۔
فضیلۃ العالم عثمان زید حفظہ اللہ
سائل: مطلب انڈس ہاسپٹل suit وغیرہ کو زکاۃ نہیں دی جاسکتی؟
جواب: جی ہاسپٹل کو زکاۃ نہیں دی جاسکتی۔
فضیلۃ العالم عثمان زید حفظہ اللہ
سائل: شیخ محترم اپنے قلبی سکون کے لیے تھوڑا سا تفصیل چاہ رہا ہوں مطلب اگر غریب کو کوئی بڑی بیماری لگ جائے تو پہلے وہ ایک ڈونر کا انتظام کرے پھر اپنا علاج کروائے یا پھر اس طرح کے خیراتی ہسپتال ختم کردیے جائیں جو غریبوں کا علاج مفت کرتے ہیں۔
جواب: پہلی بات تو یہ ہے کہ ہر غریب بیماری والا نہیں ہوتا۔
ہر غریب کی مختلف اور أپنی اپنی ضروریات ہوتی ہے۔
ہاسپٹل کو زکاۃ دے کر گویا آپ نے زکاۃ کا جو مقصد تھا (کہ غریب کو اس زکاۃ کا مالک بنانا) وہ ختم ہوجاتا ہے۔
أب یہ تو اس غریب پر منحصر ہے کہ وہ غریب اس زکاۃ سے جیسے چاہے أپنی ضروریات کو پورا کرے۔
أگر تو وہ غریب جس کو زکاۃ دی جارہی ہے بہت زیادہ بیمار ہے تو وہ غریب اس زکاۃ سے اپنا علاج کروالے۔
لیکن أگر زکاۃ صرف ہاپسٹل کو دی جائے تو پھر دوسرے غریب جو بیمار نہیں ہے ان کے حق کا استحصال ہوتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ
غریب کو ڈونر تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔
بلکہ ڈونروں کو غریبوں کی تلاش ہونی چاہیے کہ علاقے میں کس کو زکاۃ کی زیادہ ضرورت ہے۔
ڈونر خود تلاش کرے۔
فضیلۃ العالم عثمان زید حفظہ اللہ



