سوال           6852

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ شیخ محترم جو افطاری کے وقت دعا پڑھی جاتی ہے وہ بتا دیں؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
افطار کے وقت کی دعاؤں میں دو دعائیں مشہور ہیں:

اللّٰهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ،ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ

اگرچہ دونوں روایتوں میں کلام ہے، مگر پہلی دعا “اللّٰهُمَّ لَكَ صُمْتُ…” کے بارے میں کچھ زیادہ کلام کیا گیا ہے، اور اسے مرسل قرار دیا گیا ہے۔
دوسری دعا “ذَهَبَ الظَّمَأُ…” کو بعض اہلِ علم نے بنظرِ تحسین دیکھا ہے اور اس کی اجازت دی ہے۔
بہرحال یہ فضائل کے باب میں ہے۔ اصل تو بسم اللہ ہے چاہے کھانا پینا سحری کا ہو یا افطاری کا۔ اس کے بعد یہ اضافی دعا ہے، کوئی سی بھی پڑھ سکتے ہیں۔ گنجائش بہرحال موجود ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: ان دونوں دعاؤں یا حدیثوں کا حوالہ درکار ہے؟
جواب: مشکاۃ میں آپ کو دونوں دعائیں ایک ہی جگہ پر مل جائیں گی، اور ابو داؤد میں بھی غالباً موجود ہیں۔ بہرحال علماء نے دونوں روایتوں پر کلام کیا ہے۔
البتہ “اللهم لك صمتُ وعلى رزقك أفطرتُ” پر شاید زیادہ بحث ہوئی ہے اور اسے مرسل قرار دیا گیا ہے، جب کہ “ذهب الظمأُ وابتلت العروقُ وثبت الأجرُ إن شاء الله” کو بعض علماء نے قبول کیا ہے۔
اصل بنیاد کھانے پینے میں بسم اللہ کہنا ہے، یہ بات پہلے بھی ذکر ہو چکی ہے۔ یہ دعائیں اضافی ہیں، لہذا اگر کوئی ان پر عمل کرنا چاہے تو کر لے۔ البتہ یہ لازم نہیں کہ انہی دعاؤں کے پڑھنے سے روزہ افطار ہوگا؛ روزہ ان کے بغیر بھی افطار ہو جاتا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

دونوں ہی سندا ضعیف ہیں۔
البتہ روزہ کھول کر ذهب الظمأ۔۔۔۔۔ والی دعا پڑھ لیں۔

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ