سوال 6937
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ! علمائے کرام
افطاری کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول کیا تھا؟
کیا آپ ایک آدھ کھجور تناول فرما کر نماز مغرب کے بعد کھانا کھاتے تھے یا مکمل کھانا تناول فرما کر نماز مغرب ادا کرتے؟
ازراہ نوازش رہنمائی فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
افطاری حسب ضرورت کرنی چاہیے۔ چند کھجوریں اور پانی سے افطاری کرلیں اور کھانا بعد میں کھا لے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کھانا عام طور پر افطاری کے بعد کھاتے تھے۔
ہمارے ہاں جو افطاری کے ساتھ کھانے کی وجہ سے رمضان میں مغرب کی نماز کو لیٹ کیا جاتا ہے۔ یہ بہرحال ٹھیک عمل نہیں ہے۔
اگر زیادہ بھوک لگی ہے جس کی وجہ سے نماز میں خلل واقع ہونے کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں کھانا افطاری کے ساتھ کھالے۔
صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو صحابہ کا عمل ذکر کیا گیا ان میں سے ایک کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ افطاری بھی جلدی کرتے ہیں اور نماز بھی جلدی پڑھتے ہیں۔ دوسرے کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ افطاری بھی لیٹ کرتے ہیں اور نماز بھی لیٹ کرتے ہیں تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ نے پوچھا کہ افطاری جلدی کون کرتا ہے اور نماز جلدی کون پڑھتا ہے تو بتایا گیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی جلدی افطاری اور جلدی نماز پڑھتے تھے۔
فضیلۃ العالم عثمان زید حفظہ اللہ



