سوال
شیخ محترم ایک شخص عمرہ کی نیت سے پاکستان سے گیا اور اس نے احرام نہیں باندھا حتیٰ کہ مکہ مکرمہ پہنچ گیا، اب وہ کیا کرے، یعنی احرام کہاں سے باندھے اور اس پر اسلام کی طرف سے کیا کیا حدود نافذ ہوں گی، یعنی دم وغیرہ یا اس کا کفارہ وغیرہ روزوں کی شکل میں یا مساکین کو کھانا کھلانے کی شکل میں؟
برائے کرم رہنمائی فرما دیں، جزاک اللہ خیرا کثیرا
جواب
الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده!
یہ شخص جو پاکستان سے آیا ہے اور احرام باندھے بغیر ہی براہ راست مکہ مکرمہ پہنچ گیا۔ اب اس شخص کے لیے دو متبادل طریقے ہیں:
پہلا طریقہ یہ ہے کہ وہ دم ادا کرے، یعنی ایک جانور ذبح کروائے اور اس کا گوشت مکہ مکرمہ کے فقراء میں تقسیم کر دیا جائے۔ پھر وہ اپنی قیام گاہ (ہوٹل) سے احرام باندھ کر عمرہ ادا کرے۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ وہ جہاں سے سفر کر کے آیا ہے، اس کے مقررہ میقات سے احرام باندھ کر (دوبارہ) آئے۔
چونکہ پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش سے آنے والی تمام پروازیں عموماً طائف کے اوپر سے گزر کر جدہ میں اترتی ہیں۔ چنانچہ، اگر وہ طائف جا کر وہاں سے احرام باندھ کر واپس آ کر عمرہ ادا کرتا ہے تو اس پر نہ کوئی دم لازم آئے گا، نہ کوئی کفارہ، اور نہ ہی کوئی دیگر ادائیگی۔
بہتر یہی ہے کہ وہ میقات جا کر احرام باندھ کر، نیت کرکے آ کر عمرہ ادا کر لے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين
مفتیانِ کرام
فضیلۃ الشیخ ابو محمد عبد الستار حماد حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ محمد إدریس اثری حفظہ اللہ



