سوال (6548)

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
جی شیوخ سے یہ ایک سوال ہے کہ ایک بندہ پاکستان سے عمرہ کے لیے جانا چاہتا ہے، تو وہ جدہ کچھ وقت کے لیے، ایک رات کے لیے قیام کرنا چاہتا ہے اپنے کسی عزیز کے پاس، تو کیا وہ احرام باندھے بغیر ہی یہاں سے چلا جائے اور جدہ آرام کرکے، رات گزار کے، پھر قریب وہ کہتا ہے کہ میں طائف میں جا کر جو میقات ہے وہاں سے احرام باندھ کر عمرہ کرسکتا ہوں؟ کیا یہ درست ہے؟ یا پھر اس نے پاکستان سے ہی عمرہ کی نیت سے جانا ہے، اس کے لیے یہاں سے ہی احرام باندھ کر جانا ہی ضروری ہے؟

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
افضل اور بہتر طریقہ یہی ہے کہ پاکستان سے روانگی کے وقت راستے میں آنے والے میقات سے ہی عمرے کی نیت کر لی جائے اور احرام کی پابندیوں کا التزام کیا جائے۔ انسان کو بلاوجہ خود کو یا دوسروں کو شک و شبہ میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ تاہم، اس صورت میں انہیں جدہ میں اپنے دوست کے پاس قیام کے دوران بھی مکمل وقت احرام کی حالت میں رہنا ہوگا۔
دوسری صورت یہ ہے کہ وہ فی الحال عمرے کی نیت کے بغیر محض جدہ جانے کے ارادے سے سفر کریں، اور وہاں پہنچنے کے بعد طائف (قرن منازل) چلے جائیں۔ وہاں سے احرام باندھ کر عمرہ ادا کیا جا سکتا ہے۔ آپ نے جو طریقہ بتایا ہے، اس کے مطابق بھی گنجائش موجود ہے کہ وہ پہلے عام مسافر کی طرح جدہ جائیں، پھر وہاں سے طائف (قرن منازل) جا کر باقاعدہ نیت اور احرام کے ساتھ عمرہ ادا کریں۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ