سوال (6509)

اجتہاد، فقہ اور عقل ایک غلط فہمی کی وضاحت مفتی شمائل ندوی صاحب کے ایک ڈائیلاگ پر یہ اعتراض کیا گیا کہ انہوں نے اپنے استدلال میں آیات و احادیث پیش نہیں کیں۔ یہ اعتراض بظاہر دینی غیرت پر مبنی محسوس ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ سیاق (context) کو نظرانداز کرنے کا نتیجہ ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ اس مکالمے کی بنیادی شرط ہی یہ طے کی گئی تھی کہ گفتگو خالص عقلی، منطقی اور فلسفیانہ دلائل پر ہوگی۔ اس شرط کو قبول کرنے کا مقصد یہ تھا کہ یہ بات واضح کی جائے کہ اسلام کا کوئی بھی عقیدہ عقلِ سلیم، منطق اور فلسفے کے خلاف نہیں۔
یہ شرط اس لیے نہیں تھی کہ وحی کو معاذ اللہ نظرانداز کیا جائے، بلکہ اس لیے تھی کہ یہ دکھایا جائے کہ اسلام عقل سے ٹکراتا نہیں۔
یہاں ایک نہایت اہم فرق کو سمجھنا ضروری ہے: خلافِ عقل ہونا اور مافوقِ عقل ہونا دو الگ چیزیں ہیں۔
اسلام میں بہت سی باتیں ایسی ہیں جو عقل کے خلاف نہیں، مگر عقل کی پہنچ سے بلند ہیں۔ انہی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے انسان کی رہنمائی فرمائی۔
عقل، فقہ اور اجتہاد اسلامی اصطلاح میں۔
ایک بنیادی غلط فہمی یہ ہے کہ فلسفہ یا عقل کو دین سے الگ چیز سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ اسلامی روایت میں عقلِ سلیم کا قرآنی اور نبوی نام فقہ اور اجتہاد ہے۔
فقہ کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امت میں فقہ کے ماہرین کا پیدا ہونا فرض قرار دیا، اور اسے جہاد جیسی عظیم عبادت کے ساتھ ساتھ جاری رکھنے کا حکم دیا:

﴿فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ﴾ (سورۃ التوبہ: 122)

ترجمہ: تو کیوں نہ ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے تاکہ وہ دین میں گہری سمجھ حاصل کرے اور جب اپنی قوم کی طرف لوٹے تو انہیں آگاہ کرے۔
یہ آیت صاف بتا رہی ہے کہ فقہ محض ایک علمی مشغلہ نہیں بلکہ امت کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
فقہ: نور، شرحِ صدر اور خیرِ کثیر
قرآن مجید فقہ کو محض ذہنی مشق نہیں کہتا بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ نور اور شرحِ صدر قرار دیتا ہے:

﴿أَفَمَن شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ مِّن رَّبِّهِ﴾

ترجمہ: کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہو، وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر نہیں ہے؟
اسی طرح فقہ کو حکمت کہا گیا اور حکمت کو عظیم خیر قرار دیا:

﴿وَمَن يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا﴾

ترجمہ: اور جسے حکمت عطا کی گئی، اسے بہت بڑی بھلائی عطا کی گئی۔
فقیہ کی شان اور اجتہاد کی قدر
رسول اللہ ﷺ نے فقیہ کی شان کو یوں بیان فرمایا:

«فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ»

ترجمہ: ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہوتا ہے۔
چونکہ مجتہد معصوم نہیں، اس سے فکری خطا ہو سکتی ہے، اس کے باوجود شریعت نے اجتہاد کی حوصلہ افزائی یہاں تک کی کہ خطا کی صورت میں بھی اجر مقرر فرمایا:
اگر مجتہد اجتہاد کرے اور صحیح نتیجے تک پہنچے تو دو اجر ہیں، اور اگر خطا کرے تو ایک اجر ہے۔( متفق علیہ)
عام آدمی کے لیے رہنمائی، شریعت نے عام آدمی کو بھی اطمینان دیا کہ اگر وہ خود اہلِ علم نہیں اور کسی فقیہ سے رجوع کرتا ہے تو گناہ اس پر نہیں:

«مَنْ أُفْتِيَ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَإِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ»

ترجمہ: جس شخص کو بغیر علم کے فتویٰ دیا گیا، اس کا گناہ فتویٰ دینے والے پر ہوگا۔
اور لاعلمی کا علاج پوچھنا بتایا:

“شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالُ”

«جہالت کا علاج سوال کرنا ہے»
یہاں تک فرمایا کہ جو شخص بغیر علم کے قرآن کی تفسیر کرے، بالفرض درست بھی کہہ دے تو بھی گناہ گار ہوگا۔
نتیجہ: اسلامی فلسفہ کیا ہے؟
ان تمام نصوص کی روشنی میں اسلامی فلسفہ، فقہ اور اجتہاد کی حقیقت نہایت سادہ الفاظ میں یہ ہے:
المعقول من المنقول
وحی سے ماخوذ وہ فہم جو عقل کے ذریعے منظم ہو۔
یعنی عقل وحی میں غوطہ زن ہو کر جو بصیرت، احکام اور فہم حاصل کرے، وہی عینِ دین ہے۔
اسی کا نام حکمت ہے، فقہ ہے، اجتہاد ہے، اللہ کی عطا کردہ روشنی ہے۔
اسی لیے اسلامی فلسفہ اور علمِ کلام کبھی دین سے الگ نہیں رہے، بلکہ ہر دور میں عقل کے نام پر پھیلنے والی گمراہیوں کا جواب بنے۔ اور یہی وجہ ہے کہ یہ علوم صدیوں سے دینی مدارس میں پوری سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ پڑھائے جاتے رہے ہیں۔ اس کی وضاحت؟

جواب

اس میں دو باتوں کی وضاحت کر دوں پہلی تو یہ کہ کچھ لوگوں کو قرآن و حدیث سے ہٹ کر دلائل دینا کیا جائز ہے تو یہ بات پوچھنا ہی کم علمی ہے، اس لئے کہ جو انسان مسلمان ہی نہیں قرآن و حدیث کو مانتا ہی نہیں اسکو آپ درست بات قرآن و حدیث سے کیسے ثابت کر کے دکھائیں گے یہ تو ویسے ہی ہو جائے گا جیسے فیضان سنت کا اصلی ہونا انہوں نے اس کے اندر ہی شروع میں منقول ایک واقعے پہ رکھا ہے کہ جس میں نبی کریم ﷺ اب کا ذکر ہے کہ نبی ﷺ نے کہا کہ یہ درست ہے پس کافر کو آپ خارجی دلائل ہی دیں گے۔
دوسری بات کہ یہاں جو اجتہاد اور فقہ کی بات کی گئی ہے وہ مجھے لگ رہا ہے کہ غلط سمت میں لیا جا رہا ہے جب اجتہاد کا معنی یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ المعقول من المنقول تو اس سے یہ مراد بھی ہو سکتا ہے کہ جو منقول ہے اس میں جو عقل کے مطابق نظر آتی ہے وہی لینی ہے تو یہی بہت بڑی تباہی ہے بلکہ اسلام میں اجتہاد صرف یہ ہے کہ جو صحیح نقل ہے ثابت شدہ نقل ہے اسکو آپ معقول سے ثابت کرنے کے لئے اجتہاد کوشش کریں نہ کہ آپ عقل کو سرسید کی طرح منقول کی چھان پھٹک کے لئے استعمال کریں یہ بہت بڑی گمراہی ہے۔
یاد رکھیں عقل اور نقل کے حوالے سے تمام مسلمانوں میں پہلے تین گروہ بنتے ہیں۔
ایک جو صرف نقل کو مانتے ہیں دوسرے جو صرف عقل کو مانتے ہیں تیسرے جو دونوں کو مانتے ہیں ان میں دونوں کو ماننے کا چونکہ قرآن و حدیث میں واضح ذکر ملتا ہے پس پہلے تیسرا گروہ ہی درست ہے۔
پھر تیسرے گروہ میں دو طرح کے لوگ ہیں ایک وہ جو عقل کو فوقیت دیتے ہیں دوسرے وہ جو نقل کو فوقیت دیتے ہیں پس صحیح اجتہاد انکا ہو گا جو نقل کو فوقیت دیتے ہیں۔
پس اگر یہاں یہ نہ لکھا ہوتا کہ اجتہاد سے مراد المعقول من المنقول بلکہ اجتہاد کی یہ تعریف لکھی ہوتی کہ المنقول مع المعقول تو پھر زیادہ درست ہوتا۔
میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جو چیز مجتہد کو صحیح منقول ملتی ہے اس میں وہ اجتہاد کر کے اسکی عقلی دلیل دیتا ہے کہ اس منقول میں یہ منقول راجح ہے کیونکہ اسکی یہ عقلی دلیل ہے۔

فضیلۃ العالم ارشد حفظہ اللہ