سوال (5619)

علم الاعداد کے ذریعے جسمانی و نفسیاتی بیماریوں کی تشخیص کی جاتی ہے (مستقبل کی کوئی پیش گوئی اس میں شامل نہیں ہوتی) تشخیص کے بعد مریض کہتا ہے کہ 70 فیصد 90 فیصد درست تشخیص ہوئی ہے یہ بیماریاں اوریہ نفسیاتی مسائل و عادات مجھ میں موجود ہیں۔ تشخیص کے بعد پھر مریض کو قرآنی اور حدیثی دعائیں بتادی جاتی ہیں وہ خود پڑھتا اور خود دم کرتا ہے نتیجتاً اس کو فائدہ ہوتا اطمینان ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ علم الاعداد کے ذریعے تشخیص پر کون سا شرعی حکم لاگو ہوگا؟

جواب

میرے ابا جی رحمہ اللہ اس کام کو جانتے تھے اور لوگوں کی تسلی کے لیے کر بھی لیا کرتے تھے لیکن ساتھ کہتے تھے کہ اس گنتی سے کچھ نہیں ہوتا یہ بس ایسے ہی ٹوہ ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں اور نہ قابل اعتبار ہے۔ غالبا جو مجھے یاد ہے یہ بھی کہا کرتے تھے کہ یہ احمد رضا بریلوی کا بنایا ہوا ہے۔واللہ اعلم

فضیلۃ العالم اکرام اللہ واحدی حفظہ اللہ

ہماری معلومات اور محدود مطالعہ کے مطابق علم الاعداد یا حروفِ ابجد پر مبنی جو علم ہے، اگرچہ وہ اسلام سے پہلے موجود تھا، لیکن دینِ اسلام نے اس کی کوئی تائید یا حمایت نہیں کی، بلکہ اسلام نے نجومیوں، کاہنوں، شعبدہ بازوں اور ان جیسے گمراہ کن علوم کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ اسی طرح جو لوگ علمِ ابجد یا علمِ اعداد سے علاج یا غیب دانی کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ بھی اسی قسم کے باطل علوم میں شامل ہوتے ہیں۔
یہ کوئی اسلامی علم نہیں اور نہ ہی اس کا اسلام سے کوئی تعلق ہے۔ جس چیز کا اسلام سے تعلق نہ ہو، اس کی حمایت کیسے کی جا سکتی ہے؟ اور اسے درست کہنا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟
اگرچہ بعض آثار ایسے موجود ہیں جو علمِ اعداد کی صراحتاً نفی کرتے ہیں۔
اسی تناظر میں جو “786” کا معاملہ ہے، اگر آپ کو اس پر تفصیل درکار ہو تو علمائے کرام کی کتب میں یہ بحث مل جائے گی۔ مثلاً:
مولانا ابو عدنان سہیل کی کتاب: “اسلام میں بدعت اور ضلالت کے محرکات”
اس کے علاوہ اگر علمِ نجوم پر کوئی معتبر علمی کتاب دستیاب ہو تو اس کا مطالعہ بھی مفید ہوگا۔
یاد رکھیں! یہ علم نہ اسلامی طریقہ علاج ہے، نہ شرعی اصول، نہ ہی شریعت میں اسے کسی مقام پر اپنایا گیا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ