سوال 6989
اس تحریر کا خلاصہ یہ ہے کہ متعدد محدثین اور مؤرخین کے نزدیک امام ابو حنیفہ کا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دیدار ثابت ہے۔ امام ابو حنیفہ خود بیان فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت انسؓ کو کوفہ میں کئی مرتبہ دیکھا۔
یہ روایت امام محمد بن سعد اور دیگر محدثین نے نقل کی ہے، اور حافظ ذہبیؒ، ابن حجرؒ، صالحیؒ وغیرہ نے اسے صحیح یا قابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ مزید یہ کہ بہت سے جلیل القدر علماء نے بھی اس بات کی تصریح کی ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے حضرت انسؓ کو دیکھا، بعض نے متعدد بار دیکھنے کا بھی ذکر کیا ہے۔
چند ناقدین نے اس روایت پر اعتراض کیا، لیکن جواب میں یہ واضح کیا گیا کہ سند کے رواۃ کو محدثین نے قابلِ اعتماد قرار دیا ہے، اور مختلف کتب و اسانید میں یہ روایت موجود ہے۔
خلاصہ یہ کہ جمہور اہلِ علم کے نزدیک امام ابو حنیفہؒ کا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دیدار ثابت اور معتبر ہے۔
جواب درکار ہے؟
جواب
میں نے جو تحقیق کر رکھی ہے وہ یہ کہ اس باب کی تمام روایات ضعیف، غیر ثابت ہیں جو یہ تاثر دیتی ہیں کہ امام ابو حنیفہ تابعی ہیں والله أعلم بالصواب
اس تحریر میں کوئی مضبوط دلیل نہیں ہے اور اس میں بیان کردہ روایتیں ثابت نہیں ہیں۔ سیف بن جابر صرف ایک قاضی تھے اس کی صریح توثیق ثابت نہیں ہے اور اس روایت کے غیر محفوظ مبنی بر خطاء ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ کہ امام ابو حنیفہ کے مشہور اور کثیر المجلس ،والصحبة تلامذہ نے ایسی چیز بیان نہیں کی جو یہ سیف بن جابر بیان کر رہا ہے۔
یعنی قاضی ابو یوسف وغیرہ کیوں بیان نہیں کرتے ہیں ایسی بات کو؟
علل حدیث سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ یہ ایک واضح علت ہے بیچ اس مسئلہ کے پھر عبد الله بن محمد بن خالد راوی صاحب غرائب وأفراد سے ہے جس پر کلام بھی کیا گیا ہے حافظ خلیلی نے کہا ہے:
ﻳﺄﺗﻲ ﺑﺄﺣﺎﺩﻳﺚ ﻻ ﻳﺘﺎﺑﻊ ﻋﻠﻴﻬﺎ
الإرشاد للخليلى:2/ 763
اس کے تلامذہ میں محمد بن سلیمان بن یزید راوی موجود ہے۔ تو اس روایت کو کبار ثقات نے بیان نہیں کیا ہے اور کبار ائمہ محدثین وعلل کے ماہرین نے ایسی کوئی صراحت وتائید نہیں کی ہے رہا معاملہ بعد والوں کا تو یہ ان کی بات مرجوح ہے۔
صاحب تحریر نے عدل وانصاف سے کام نہیں لیا ہے۔ وصححوا رؤياه کا معنی درست نہیں ہے۔ یہاں تو مراد روئیت کو صحیح کہنا ہے ناں کہ روایت کو۔
حافظ ذہبی کے قول کا مطلب بھی واضح ہے کہ وہ دیکھنے کو صح کہہ رہے ہیں کہ ان کے نزدیک راجح یہی ہے کہ سیدنا انس کو دیکھا ہے۔ رہا حافظ ابن حجر عسقلانی کا
سند کو لا بأس بہ کہنا حجت نہیں ہے جب ہم دیگر مسائل واحکام (مراد راویان حدیث اور روایت حدیث کا حکم ہے)میں ان سے اختلاف کر جاتے ہیں تو یہاں کیوں نہیں کر سکتے ہیں جبکہ ان سے بہت پہلے امام العلل امام دارقطنی اس کی نفی بالجزم کر چکے ہیں اور وہ علم وفضل اور علل حدیث میں ہر اعتبار سے حافظ ابن حجر سے فائق تھے اس لئے یہ لکھ کر رعب ڈالنے کی جرأت نہ کیجیے کہ ان ائمہ وعلماء کے نزدیک یہ روایت صحیح ہے وغیرہ ،وغیرہ
دوسری روایت کی سند محل نظر ہے اس سند کے راوی محمد بن سعد روایت حدیث میں کمزور ہیں اور امام دارقطنی کے لا بأس به کہنا تفرد کے سبب مفید نہیں ہے۔
سعد بن محمد بن حسن العوفی راوی ضعیف ہے
امام أحمد نے اسے جہمی کہتے ہوئے کہا:
ﻟﻮ ﻟﻢ ﻳﻜﻦ ﻫﺬا ﺃﻳﻀﺎ ﻟﻢ ﻳﻜﻦ ﻣﻤﻦ ﻳﺴﺘﺄﻫﻞ ﺃﻥ ﻳﻜﺘﺐ ﻋﻨﻪ، ﻭﻻ ﻛﺎﻥ ﻣﻮﺿﻌﺎ ﻟﺬاﻙ
تاریخ بغداد:10/ 183
اس جرح کی سند کے راوی ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﻴﺴﻰ اﻟﺠﻮﻫﺮﻱ کے بارے میں خطیب بغدادی نے کہا:ﻭﻓﻲ ﺑﻌﺾ ﺣﺪﻳﺜﻪ ﻧﻜﺮﺓ
تاریخ بغداد: (5904) آگے منکر روایت بھی ذکر کی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کلام کا تعلق اقوال جرح وتعدیل کے ساتھ
نہیں ہے اور اس کی اس نوع کی روایت قرائن کے ساتھ قبول کی جائے گی۔ اور اس راوی سعد بن محمد بن حسن العوفی کی صریح توثیق ثابت نہیں ہے اور یہاں اس کا تفرد بھی ہے جو قبول نہیں ہے کہ اس کی تائید نہ کسی صحیح دلیل سے نہ ہی کسی قوی قرینہ سے ہوتی ہے۔
پھر ابو یوسف سے یہ روایت میں معروف نہیں ہے۔
مختصر یہ کہ صاحب تحریر امام ابو حنیفہ کا سیدنا انس بن مالک رضی الله عنہ کو دیکھنا بھی ثابت نہیں کر سکے اور نہ ہی ان سے روایت حدیث بیان کرنا اور سماع علاقے ثابت ہونا تو ممکن ہی نہیں ہے۔
حافظ السھمی کی روایت ملاحظہ کریں:
ﺳﺌﻞ اﻟﺪاﺭﻗﻄﻨﻲ ﻭﺃﻧﺎ ﺃﺳﻤﻊ ﻋﻦ ﺳﻤﺎﻉ ﺃﺑﻲ ﺣﻨﻴﻔﺔ عن أنس ﻳﺼﺢ ﻗﺎﻝ ﻻ ﻭﻻ ﺭﺅﻳﺔ ﻭﻟﻢ ﻳﻠﺤﻖ ﺃﺑﻮ ﺣﻨﻴﻔﺔ ﺃﺣﺪا ﻣﻦ اﻟﺼﺤﺎﺑﺔ
سؤالات حمزة السهمي:(383)
حافظ ابن جوزی نقل کرتے ہیں:
ﻭﻻ ﻳﺼﺢ ﻷﺑﻲ ﺣﻨﻴﻔﺔ ﺳﻤﺎﻉ ﻣﻦ ﻳﺮﻭﻱ ﻭﻻ ﺭﺅﻳﺔ ﻟﻢ ﻳﻠﻖ ﺃﺑﻮ ﺣﻨﻴﻔﺔ ﺃﺣﺪا ﻣﻦ اﻟﺼﺤﺎﺑﺔ
العلل المتناهية: 1/ 65
خطیب بغدادی کہتے ہیں:
ﺣﺪﺛﻨﻲ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻧﺼﺮ، ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﺣﻤﺰﺓ ﺑﻦ ﻳﻮﺳﻒ اﻟﺴﻬﻤﻲ، ﻳﻘﻮﻝ: ﺳﺌﻞ ﺃﺑﻮ اﻟﺤﺴﻦ اﻟﺪاﺭﻗﻄﻨﻲ ﻭﺃﻧﺎ ﺃﺳﻤﻊ ﻋﻦ ﺳﻤﺎﻉ ﺃﺑﻲ ﺣﻨﻴﻔﺔ، ﻋﻦ ﺃﻧﺲ ﻳﺼﺢ؟ ﻗﺎﻝ: ﻻ، ﻭﻻ ﺭﺅﻳﺘﻪ، ﻟﻢ ﻳﻠﺤﻖ ﺃﺑﻮ ﺣﻨﻴﻔﺔ ﺃﺣﺪا ﻣﻦ اﻟﺼﺤﺎﺑﺔ.
تاريخ بغداد:5/ 338(2166) ترجمہ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ اﻟﺼﻠﺖ ﺑﻦ اﻟﻤﻐﻠﺲ
صاحب تحریر نے نہیں معلوم کہاں سے اگلے الفاظ لکھ دئیے ہیں جبکہ سؤالات السلمى میں ہے:
ﻭﺳﺄﻟﺘﻪ: ﻫﻞ ﻳﺼﺢ ﺳﻤﺎﻉ ﺃﺑﻲ ﺣﻨﻴﻔﺔ ﻋﻦ ﺃﻧﺲ
ﻓﻘﺎﻝ: ﻻ ﻳﺼﺢ ﺳﻤﺎﻋﻪ ﻋﻦ ﺃﻧﺲ، ﻭﻻ ﻋﻦ ﺃﺣﺪ ﻣﻦ اﻟﺼﺤﺎﺑﺔ، ﻭﻻ ﺗﺼﺢ ﻟﻪ ﺭﺅﻳﺔ ﺃﻧﺲ ﻭﻻ ﺭﺅﻳﺔ ﺃﺣﺪ ﻣﻦ اﻟﺼﺤﺎﺑﺔ
سؤالات السلمى:(398)
امام دارقطنی نے جو بات کہی ہے وہی راجح ہے کہ نہ دیکھنا ثابت اور نہ ہی ملاقات ثابت ہے۔ اسلئے بعد والوں کی بات بلا دلیل اور کمزور ہے۔
اور صاحب تحریر نے سیوطی وغیرہ سے خطاء پر مبنی کلام نقل کر کے دیانت داری سے کام نہیں لیا ہے یا وہ اس خطاء کو سمجھ نہیں پائے۔
فائدہ:
امام ابو حنیفہ نے کہا:
ﻣﺎ ﺭﺃﻳﺖ ﺃﻛﺬﺏ ﻣﻦ ﺟﺎﺑﺮ، ﻭﻻ ﺃﻓﻀﻞ ﻣﻦ ﻋﻄﺎء
الجعدیات:(1977) حسن،صحیح ابن حبان:5/ 471(بعد:2110)، المجروحين:1/ 209 وغيره
ﺣﺪﺛﻨﺎ اﺑﻦ اﻟﻤﻘﺮﺉ( هو محمد بن عبد الله بن يزيد) ، ﻧﺎ ﺃﺑﻲ ( هو عبد الله بن يزيد) ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﺃﺑﺎ ﺣﻨﻴﻔﺔ ﻳﻘﻮﻝ: ﻣﺎ ﺭﺃﻳﺖ ﺃﻓﻀﻞ ﻣﻦ ﻋﻄﺎء، ﻭﻋﺎﻣﺔ ﻣﺎ ﺣﺪﺛﻜﻢ ﺑﻪ ﺧﻄﺄ
الجعديات: (1978)، تاريخ بغداد:15/ 544، تاريخ دمشق: 40/ 390 صحیح
ﺣﺪﺛﻨﺎﻩ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻌﺰﻳﺰ، ﺣﺪﺛﻨﻲ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﺑﻦ ﻏﻴﻼﻥ، ﺣﺪﺛﻨﺎ اﻟﻤﻘﺮﻱ ﺳﻤﻌﺖ ﺃﺑﺎ ﺣﻨﻴﻔﺔ ﻳﻘﻮﻝ ﻣﺎ ﺭﺃﻳﺖ ﺃﻓﻀﻞ ﻣﻦ ﻋﻄﺎء ﻭﻋﺎﻣﺔ ﻣﺎ ﺃﺣﺪﺛﻜﻢ ﺧﻄﺎ
الكامل لابن عدي: 8/ 237 صحيح
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻣﺴﺮﺓ ﻗﺎﻝ: ﺛﻨﺎ اﻟﻤﻘﺮﺉ ﻗﺎﻝ: ﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺣﻨﻴﻔﺔ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ ﻗﺎﻝ: ﻣﺎ ﺭﺃﻳﺖ ﺭﺟﻼ ﺃﻓﻀﻞ ﻣﻦ ﻋﻄﺎء
أخبار مكة للفاكهي:(1590) 2/ 307
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺣﻜﻢ ﺑﻦ ﻣﻦﺫﺭ، ﻧﺎ ﻳﻮﺳﻒ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ، ﻧﺎ ﺃﺑﻮ ﺭﺟﺎء ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺣﻤﺎﺩ اﻟﻤﻘﺮﺉ، ﺛﻨﺎ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺷﺒﺔ، ﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﻋﺎﺻﻢ اﻟﻀﺤﺎﻙ ﺑﻦ ﻣﺨﻠﺪ ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﺃﺑﺎ ﺣﻨﻴﻔﺔ ﻳﻘﻮﻝ: ﻣﺎ ﺭﺃﻳﺖ ﺃﻓﻀﻞ ﻣﻦ ﻋﻄﺎء ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺭﺑﺎﺡ
جامع بيان العلم وفضله:(2135)
امام ابو حنیفہ کے اس قول سے معلوم ہوا کہ انہوں نے کسی صحابی کو دیکھا یا ملاقات نہیں کی ہے اور اگر کسی صحابی کو دیکھا ہوتا تو یوں کبھی نہ کہتے ﻣﺎ ﺭﺃﻳﺖ ﺃﻓﻀﻞ ﻣﻦ ﻋﻄﺎء بلکہ اس طرح کہتے ما رأيت أفضل من أنس بن مالك وفلان۔
الحاصل:
اصول حدیث وعلل کے مطابق امام ابو حنیفہ کی تابعیت ثابت کرنے کے لئے جو روایتیں پیش کی گئ ہیں وہ پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتی ہیں یہی وجہ ہے کہ امام دارقطنی نے مطلقا دیکھنے اور ملاقات ہونے کی نفی کی ہے ( نیز امام صاحب کے ترجمہ میں کسی بڑے امام نے ان کے شیوخ میں انس بن مالک کا ذکر نہیں کیا ہے اور نہ ہی کسی دوسرے صحابی کا سوائے خطیب بغدادی کے جو بلاشبہ خطاء ہے) اور یہ روایتیں امام دارقطنی کے علم میں بھی تھیں اس لئے جو چیز ثابت ہے اسے تسلیم کرنے میں ہی خیر وعافیت ہے اور چیز ثابت نہیں اسے ثابت کرنے میں سواے پشیمانی کے کچھ نہیں ہے۔
هذا ما عندي والله أعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ



