سوال 6759
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اگر باجماعت نماز میں امام صاحب کسی ایک رکعت کا سجدہ بھول جائیں اور مقتدیوں میں سے کوئی تنبیہ نہ کرے، پھر امام کو سلام پھیرنے کے بعد یہ بات معلوم ہو کہ فلاں رکعت میں ایک سجدہ رہ گیا تھا، تو چونکہ سجدہ نماز کا رکن ہے اور رکن چھوڑنے سے رکعت درست نہیں ہوتی ہے، اس لیے امام کو وہ پوری رکعت دوبارہ لوٹانا ضروری ہوتا ہے۔ چنانچہ سلام پھرنے کے بعد امام کھڑے ہو کر وہ رہ گئی رکعت مکمل کرے گا۔
اس موقع پر دو طرح کے مقتدی موجود ہوتے ہیں: ایک وہ جن کی نماز امام کے ساتھ مکمل ہو چکی ہو۔
دوسرا وہ جن کی ایک یا زیادہ رکعتیں ابھی باقی ہے۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ: جب امام وہ رہ گئی رکعت لوٹائے گا، تو وہ مقتدی جس کی اپنی رکعتیں باقی تھیں، کیا وہ بھی امام کے ساتھ دوبارہ کھڑا ہو کر اپنی نماز اسی کے ساتھ مکمل کرے؟
یا ایسے مقتدی کے لیے حکم یہ ہوگا کہ وہ امام کے ساتھ شامل نہ ہو اور اپنی باقی رکعتیں الگ ہی مکمل کرے؟
اس صورتِ حال میں سجدہ سہو کی حیثیت اور طریقہ ادا کیا ہوگا؟
کیا صرف امام پر ہوگا یا وہ مقتدی بھی شریک شمار ہوگا جس کی رکعت رہ گی ہے؟
اگر مقتدی امام کے ساتھ شامل ہو جائے تو اس کی اپنی باقی رکعتوں کا طریقہ و حکم کیا ہوگا؟
اور اگر ایسا ہو کہ جس مقتدی کی ایک رکعت رہ گئی تھی، وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد اپنی رہ گئی رکعت کے رکوع میں چلا جائے، اور اسی دوران امام کو یاد آ جائے کہ ایک سجدہ رہ گیا تھا، تو اب جب امام کھڑا ہو کر رہ گئی رکعت مکمل کرے گا،
تو کیا ایسی صورت میں بھی وہ مقتدی امام کے ساتھ دوبارہ ملے گا؟
اور اگر مقتدی اپنی نماز تنہا پڑھے گا تو کیا اسے جماعت کا ثواب ملے گا؟
جزاکم اللہ خیراً و أحسن الجزاء
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
بات یہ ہے کہ عمومًا لوگ لاشعوری طور پر نماز ادا کر رہے ہوتے ہیں، الا ماشاء اللہ۔ پھر یہ اندیشہ بھی رہتا ہے کہ اگر لقمہ دے دیا تو کہیں ہم ہی غلطی پر نہ ہوں، کہیں ہماری پکڑ نہ ہو جائے یا بعد میں ڈانٹ پڑ جائے۔ اسی خوف کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے کو اشارے اور کہنیاں مارتے رہ جاتے ہیں، مگر کھل کر بات نہیں کرتے۔
بہرحال، اگر امام سے سہو ہو گیا اور انہوں نے ایک رکعت کم پر سلام پھیر دیا، نہ کسی نے لقمہ دیا اور نہ ہی امام کو خود احساس ہوا، تو بعد میں جب انہیں متنبہ کیا جائے گا اور وہ کھڑے ہوں گے تو وہ رہ گئی رکعت پوری کریں گے۔ یا اگر کوئی خاص چیز چھوٹ گئی ہو، جیسے سجدہ وغیرہ، تو پوری رکعت کو دہرائیں گے۔ اس کے بعد احناف کے طریقے کے مطابق دو سجدہ سہو کریں گے۔
اس صورت میں وہ تمام مقتدی اس عمل میں شریک ہوں گے جو امام کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے اور جنہوں نے امام کے ساتھ سلام پھیرا تھا۔ البتہ جو شخص لیٹ آیا تھا اور وہ اپنی نماز مکمل کر رہا ہے، تو وہ اپنی نماز توڑ کر امام کے ساتھ شریک نہیں ہوگا، بلکہ اپنی نماز ہی کو جاری رکھے گا۔ اس لیے کہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد وہ امام کی اقتدا سے باہر ہو چکا تھا اور اب اس کے ذمے اپنی نماز کو مکمل کرنا ہے، جیسے اس پر لازم ہے۔
وہ جان بوجھ کر اس طرح کی غلطی نہیں کرے گا، جیسی امام سے ہو گئی تھی۔ ہاں، جن لوگوں نے امام کے ساتھ سلام پھیرا تھا اور وہ اس وقت تک امام کے ساتھ ہی تھے، وہ امام کے ساتھ مل کر اسی نماز کی اصلاح کریں گے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: محترم شیخ! آپ کے جواب کا ہم احترام کرتے ہیں، اور یقیناً آپ کی بات کسی اجتہاد پر مبنی ہوگی۔ البتہ ایک علمی اشکال عرض کرنا مقصود ہے، جس کی وضاحت مطلوب ہے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ عام حالات میں امام کا سلام نماز اور اقتداء دونوں کو ختم کر دیتا ہے۔ البتہ محلِّ اشکال یہ ہے کہ آیا ہر سلام شرعاً معتبر بھی ہوتا ہے یا نہیں؟
زیرِ بحث صورت میں سلام اس حال میں پھیرا گیا تھا کہ ایک رکعت میں سجدہ (جو رکن ہے) رہ گیا تھا، اور رکن کے فوت ہونے کی صورت میں وہ رکعت باطل ہو جاتی ہے۔ لہٰذا یہ سلام کامل نماز پر مبنی نہیں تھا۔
اس بنا پر عرض ہے کہ: جو سلام نماز کی صحت پر قائم نہ ہو، وہ اقتداء کو حقیقی طور پر ختم کرنے والا کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ کیونکہ سلام تو نماز کے اختتام کی علامت ہے، اور جب نماز ہی شرعاً مکمل نہ ہوئی ہو، تو اس کے اختتام کا حکم بھی محلِّ نظر ہو جاتا ہے۔ اسی لیے جب امام کو سجدہ کے فوت ہونے کا علم ہوا اور وہ رکعت کے اعادہ کے لیے کھڑا ہوا، تو دراصل وہ اپنی نماز ہی کی تکمیل کر رہا تھا، نہ کہ نئی نماز شروع کر رہا تھا۔ ایسی حالت میں نبی ﷺ کا عمومی حکم اپنی جگہ باقی رہتا ہے: إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ لہٰذا جس مقتدی کی نماز ابھی باقی تھی، اس کے لیے امام سے الگ ہو کر نماز مکمل کرنا جبکہ امام اپنی نماز کی اصلاح کر رہا ہو واضح دلیل کا محتاج معلوم ہوتا ہے۔
اسی لیے عرض ہے کہ: اگر سلام واقعی اقتداء کو مطلقاً ختم کر دیتا ہو، تو وہ سلام جو نمازِ ناقص پر مبنی ہو، اس کی صراحت کسی صحیح حدیث یا اثر سے مطلوب ہے۔
اگر اس بارے میں کوئی واضح نص موجود ہو تو رہنمائی فرما دی جائے، تاکہ مسئلہ پوری طرح واضح ہو جائے۔
جواب: اب میں یہ کہوں گا کہ اس معاملے میں آپ اجتہاد کر رہے ہیں، حالانکہ بات اپنے اندر واضح ہے۔ اگر بعد میں آنے والا مقتدی ہے اور امام سلام غلطی سے پھیر دیتا ہے یا صحیح طور پر پھیر دیتا ہے، بہرحال امام کے سلام کے بعد اس بعد والے کی امام کے ساتھ اقتداء ختم ہو جاتی ہے، اور وہ اپنی نماز کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے۔
اب اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ اس سے دوبارہ اقتداء کروائی جائے، تو پھر پہلے اسے بھی امام کے ساتھ سلام پھیروا دینا چاہیے تھا۔ لیکن صورتِ حال یہ ہے کہ وہ اپنی نماز پڑھ رہا ہے، اور امام اپنی غلطی کی اصلاح کے لیے ایک رکعت پڑھ رہا ہے یا سجدہ سہو کر رہا ہے۔ ایسے میں اس مقتدی سے یہ کہنا کہ “تم سلام توڑو، نماز توڑو، اور دوبارہ امام کے ساتھ شامل ہو جاؤ”، گویا اسے زبردستی امام کی غلطی میں داخل کرنا ہے۔ تو پھر دلیل تو آپ کے ذمے ہوئی نا، میرے محترم، میرے ذمے کیسے ہو گئی؟
ذرا اس پہ غور کریں کہ کیا واقعی ایک شخص سے زبردستی غلطی کروائی جا رہی ہے یا نہیں؟ یہ اس سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی نماز توڑے، صرف اس لیے کہ امام سے غلطی ہو گئی ہے، حالانکہ وہ بیچارہ کسی عذر کی وجہ سے لیٹ آیا تھا اور امام کے سلام پھیرنے کے ساتھ ہی اس کی اقتداء ختم ہو چکی تھی۔ ہاں، جن کی اقتداء ختم نہیں ہوئی، جو امام کے ساتھ شروع سے شریک تھے، وہی امام کے ساتھ اس اصلاح میں شریک ہوں گے۔
یہ ایک غیر ضروری بوجھ ہے جو دوسرے کے کندھوں پر ڈالا جا رہا ہے، اور یہ “تکلیفِ ما لا یطاق” کے قبیل میں آتا ہے، یعنی ایسی چیز کا مطالبہ جو اس کے لیے لازم ہی نہیں بنتی۔
اور یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ ہر ہر مسئلے میں صریح نص یا واضح دلیل موجود نہیں ہوتی۔ جیسے آپ نے سمجھا ہے، ویسے ہم نے بھی سمجھا ہے۔ لیکن ہمارا موقف الحمد للہ زیادہ مضبوط ہے، اس وجہ سے کہ امام کی غلطی پر جان بوجھ کر غلطی کرنا درست نہیں۔ عرب کے بعض علماء تو اس صورت میں پوری نماز کو باطل قرار دے دیتے ہیں۔ آپ کو علم ہے کہ وہ کہتے ہیں: اگر امام پانچویں رکعت کے لیے کھڑا ہو جائے، اور آپ کو یقین ہو کہ وہ چوتھی ہے، پھر بھی آپ اس کے ساتھ کھڑے ہو جائیں، تو آپ کی چاروں رکعتیں باطل ہو جائیں گی۔
اسی اصول کو سامنے رکھ کر یہ بات کہی جا رہی ہے کہ قصداً امام کی غلطی میں شریک ہونا کسی طرح بھی درست نہیں بنتا۔
اس بات کو ایک مثال سے بھی سمجھ لیجیے۔ ایک دفعہ سوال کیا گیا تھا، اور غالباً آپ سے بھی کیا گیا ہوگا، بلکہ کئی مرتبہ گروپ میں بھی آیا ہوگا، کہ امام صاحب رکوع کے بعد ہاتھ باندھتے ہیں، ہم نہیں باندھتے، تو ہمیں ان کی اقتدا میں کیا کرنا چاہیے؟ یا امام صاحب ہاتھ نہیں باندھتے، ہم باندھتے ہیں، تو پھر ہم کیا کریں؟
تو اس پر ہم نے عرض کیا تھا کہ امام کی اقتدا کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ امام صاحب کے سر سے ٹوپی گر گئی تو آپ بھی اپنی ٹوپی گرا دیں۔ یا امام کے جسم کے جس حصے میں خارش ہو رہی ہے، آپ کو بھی نماز میں اسی جگہ خارش ہونے لگے۔ ظاہر ہے اقتدا کا یہ مطلب تو نہیں ہوتا۔
اسی طرح اگر امام صاحب سبحانک اللہم پڑھتے ہیں اور آپ اللہم باعد بینی نہیں پڑھتے، تو کیا یہ کہا جائے گا کہ اقتدا ہی نہیں ہوئی؟ یہ بات درست نہیں۔ اقتدا کے لیے شریعت نے کچھ متعین امور بیان کیے ہیں، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے:
اِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا
یعنی جب امام تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو، اور جب سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو۔
اور جو حدیث ہے:
اِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ
تو ہمارے نزدیک یہ حصہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آخری نماز کی وجہ سے منسوخ ہے۔
تو اقتدا کا بھی ایک باقاعدہ مفہوم ہے۔ ایسا نہیں کہ اقتدا کا مطلب یہ لے لیا جائے کہ اگر امام کو چھینک آ رہی ہے تو ہمیں بھی چھینک آنی چاہیے، یا اگر ان کو کھانسی ہو رہی ہے تو ہمیں بھی کھانسی ہونی چاہیے۔ اقتدا ان افعال میں ہے جو شریعت نے متعین کیے ہیں، ہر ہر جزوی اور طبعی عمل میں نہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اگر سلام نماز سے خارج ہونے کے لیے پھیرا گیا یہ سمجھ کر کہ نماز پوری ہوگئی ہے تو وہ سلام بھی معتبر ہی شمار ہوگا اگرچہ چونکہ ایک یا دو رکعت کم پڑھی تھیں تو اس کے لیے شریعت نے طریقہ بتا دیا کہ جتنی رکعات رہ گئیں وہ رکعات مزید پڑھے اور پھر سجدہ سہو کرے۔
جس طرح ذوالیدین رضی اللہ عنہ والی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعت کم پڑھا دیں ،یاد دلانے پر سب صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو دوبارہ بلا کر دو رکعات مزید پڑھا کر سلام پھیرا گیا۔ اس کے بعد سجدہ سھو کیا۔
(بخاری#482)
ایسی کوئی بات شریعت میں نہیں کہ سھوا اگر کچھ رکعات کم پڑھ کر سلام پھیر دیا جائے تو وہ سلام ہی نماز سے خارج کرنے والا، معتبر سلام نہیں۔ سلام تو بلاشبہ معتبر ہے۔
لہذا اگر امام نے سلام پھیر دیا تو مسبوق اس کے بعد امام کی اقتداء سے خارج ہے۔ اب امام دوبارہ اللہ اکبر کہ کر بقیہ رکعات پڑھے تو مقتدی کے لیے یہ حکم نہیں کہ وہ اپنی نماز توڑ کر خودبخود امام کے اقتداء میں دوبارہ چلا جائے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب
فضیلتہ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ! شیخ جزاکم اللہ خیراً، بارک اللہ فیکم، تقبل اللہ طاعتکم، سلمکم اللہ۔
اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ ہمارے ہاں ایک رائے یہ بھی پائی جاتی ہے کہ سجدہ سہو کا جو پہلا واقعہ پیش آیا، اس میں کتبِ حدیث میں یہ ذکر ملتا ہے کہ کچھ لوگ نماز کے بعد چلے گئے تھے۔ ظاہر ہے نہ سب کو اکٹھا کرنا ممکن تھا اور نہ ہی ایسی کوئی خاص ہدایت دی گئی کہ جو چلے گئے ہیں انہیں واپس بلا کر سجدہ سہو کروایا جائے، یا انہیں پیغام دیا جائے کہ جا کر سجدہ سہو ادا کریں۔ جو حضرات موجود تھے اور سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہے تھے، وہی شریک ہوئے۔ اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ سجدہ سہو فرض کے درجے میں نہیں ہے۔
البتہ رکعات کا معاملہ الگ ہے، وہ بہرحال پوری کی جائیں گی ہر صورت میں۔ لیکن وہاں بھی یہ بحث صراحت کے ساتھ نہیں ملتی کہ جو لوگ نماز کے بعد چلے گئے تھے، انہوں نے بعد میں کیا کیا۔ چونکہ وہ پہلا موقع تھا، اس لیے وہاں درگزر سے کام لیا گیا۔ شاید یہی اس کا مفہوم ہے۔
اسی طرح تیمم کے مسئلے کو سامنے رکھا جا سکتا ہے۔ جب تک آیتِ تیمم نازل نہیں ہوئی تھی اور حکم واضح نہیں ہوا تھا، اس وقت وضو میسر نہیں تھا تو بعض روایات میں آتا ہے کہ «فَصَلَّوْا بِغَیْرِ وُضُوءٍ»، یعنی لوگوں نے اسی حالت میں نماز ادا کر لی۔ اس وقت نہ تیمم کا علم تھا اور نہ اس کا حکم نازل ہوا تھا، تو جو شخص جیسی حالت میں تھا اس نے ویسے ہی نماز پڑھ لی، اور اس پر بعد میں کوئی گرفت نہیں کی گئی۔
لہذا یہ پہلو بھی سامنے رہنا چاہیے کہ ابتدائی مواقع پر، جب حکم پوری طرح واضح نہیں ہوا تھا، شریعت نے سختی کے بجائے سہولت اور درگزر کا معاملہ فرمایا۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
بارک اللہ فیک
یہاں مزید بھی ایک بات واضح ہوجائے کہ نماز میں کلام کرنا باطل ہے۔
رکعات جب کم پڑھا کر سلام پھیر دیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دوران کلام کیا۔ پھر دو رکعات پڑھا کر سجدہ سہو کیا یہ بھی اس بات پر قرینہ ہے کہ کم رکعات پڑھا کر جو سلام پھیرا وہ سلام نماز سے خارج کرنے والا ہی تھا
صحیح بخاری
کتاب: نماز کا بیان
باب: باب: مسجد وغیرہ میں ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کر کے قینچی کرنا درست ہے۔
حدیث نمبر: 482
حدیث نمبر: 482
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بْنُ شُمَيْلٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ، قَالَ ابْنُ سِيرِينَ: سَمَّاهَا أَبُو هُرَيْرَةَ، وَلَكِنْ نَسِيتُ أَنَا، قَالَ: فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، فَقَامَ إِلَى خَشَبَةٍ مَعْرُوضَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَاتَّكَأَ عَلَيْهَا كَأَنَّه غَضْبَانُ، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، وَوَضَعَ خَدَّهُ الْأَيْمَنَ عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى، وَخَرَجَتِ السَّرَعَانُ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالُوا: قَصُرَتِ الصَّلَاةُ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَهَابَا أَنْ يُكَلِّمَاهُ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ فِي يَدَيْهِ طُولٌ يُقَالُ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَسِيتَ أَمْ قَصُرَتِ الصَّلَاةُ ؟، قَالَ: لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرْ، فَقَالَ: أَكَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالُوا: نَعَمْ، فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى مَا تَرَكَ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ، فَرُبَّمَا سَأَلُوهُ ثُمَّ سَلَّمَ فَيَقُولُ: نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، قَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ.
ترجمہ: ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے نضر بن شمیل نے، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ ابن عون نے خبر دی، انہوں نے محمد بن سیرین سے، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں دوپہر کے بعد کی دو نمازوں میں سے کوئی نماز پڑھائی۔ (ظہر یا عصر کی) ابن سیرین نے کہا کہ ابوہریرہ ؓ نے اس کا نام تو لیا تھا۔ لیکن میں بھول گیا۔ ابوہریرہ ؓ نے بتلایا کہ آپ ﷺ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ اس کے بعد ایک لکڑی کی لاٹھی سے جو مسجد میں رکھی ہوئی تھی آپ ﷺ ٹیک لگا کر کھڑے ہوگئے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے آپ بہت ہی خفا ہوں اور آپ ﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھا اور ان کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کیا اور آپ نے اپنے دائیں رخسار مبارک کو بائیں ہاتھ کی ہتھیلی سے سہارا دیا۔ جو لوگ نماز پڑھ کر جلدی نکل جایا کرتے تھے وہ مسجد کے دروازوں سے پار ہوگئے۔ پھر لوگ کہنے لگے کہ کیا نماز کم کردی گئی ہے۔ حاضرین میں ابوبکر اور عمر ؓ بھی موجود تھے۔ لیکن انہیں بھی آپ سے بولنے کی ہمت نہ ہوئی۔ انہیں میں ایک شخص تھے جن کے ہاتھ لمبے تھے اور انہیں ذوالیدین کہا جاتا تھا۔ انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا آپ ﷺ بھول گئے یا نماز کم کردی گئی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز میں کوئی کمی ہوئی ہے۔ پھر آپ ﷺ نے لوگوں سے پوچھا۔ کیا ذوالیدین صحیح کہہ رہے ہیں۔ حاضرین بولے کہ جی ہاں! یہ سن کر آپ ﷺ آگے بڑھے اور باقی رکعتیں پڑھیں۔ پھر سلام پھیرا پھر تکبیر کہی اور سہو کا سجدہ کیا۔ معمول کے مطابق یا اس سے بھی لمبا سجدہ۔ پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔ پھر تکبیر کہی اور دوسرا سجدہ کیا۔ معمول کے مطابق یا اس سے بھی طویل پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی، لوگوں نے بار بار ابن سیرین سے پوچھا کہ کیا پھر سلام پھیرا تو وہ جواب دیتے کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ عمران بن حصین کہتے تھے کہ پھر سلام پھیرا۔
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ
سائل: جزاک اللہ خیرا شیخ اگر سلام حقیقتاً اور مطلقاً نماز سے خارج کرنے والا اختتام ہوتا، تو اس حدیث کا لازمی تقاضا یہ تھا کہ نبی ﷺ بالکل نئی نماز شروع فرماتے، حالانکہ ایسا نہیں ہوا۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ: سہواً یا نقصِ نماز کے ساتھ واقع ہونے والا سلام نماز کو منقطع نہیں کرتا، بلکہ نماز حکماً باقی رہتی ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے سلام کے بعد: صحابہؓ سے گفتگو بھی فرمائی پھر وہیں سے نماز مکمل فرمائی لہٰذا ذوالیدینؓ کی حدیث دراصل اس بات کی دلیل بنتی ہے کہ: ہر سلام ہر حال میں نماز اور اقتداء کو ختم نہیں کرتا۔ آپ کے جواب میں یہ فرمایا گیا ہے کہ: “سلام کے بعد مسبوق امام کی اقتداء سے خارج ہو جاتا ہے” اس پر عرض ہے کہ: اگر امام کا سلام ایسی نماز پر ہوا جو شرعاً مکمل نہ تھی اور امام خود اسی نماز کی اصلاح کے لیے کھڑا ہو گیا تو امام حکماً ابھی نماز ہی میں ہے ایسی صورت میں جس مقتدی کی نماز ابھی باقی تھی، اس کے بارے میں یہ بات واضح نہیں ہو پاتی کہ: وہ کس دلیل کی بنیاد پر امام سے الگ ہو جائے،
جبکہ امام خود اپنی نماز کی تکمیل کر رہا ہو؟ خصوصاً جب نبی ﷺ کا عمومی حکم موجود ہے:
«إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ»
تو مقتدی کا امام کی اصلاحی کارروائی سے الگ رہنا واضح نص کا محتاج معلوم ہوتا ہے۔
میں چونکہ طالبِ علم ہوں اور آپ اہلِ علم ہیں، اس لیے اسے بحث نہ سمجھا جائے، بلکہ ایک طالبِ علم کا فہم واضح کرنے کی کوشش سمجھا جائے۔
جواب: اقتداء ختم ہوگئی تھی، اس کے بعد دوبارہ اللہ اکبر کہ کر نماز شروع کی گئی اور مقتدی امام کی اقتداء میں شامل ہوئے۔
ورنہ تحلیلھا التسلیم کے تحت تو نماز سے خارج ہوگئے تھے اسی لیے تو کلام کیا۔ ورنہ نماز میں کلام تو نماز کو باطل کردیتا۔
تحلیلھا التسلیم میں اس چیز کی تخصیص نہیں کہ اگر سلام سھو پہلے پھیر دیا جائے تو نماز سے خارج نہیں کرتا
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ
سائل: محترم شیخ! میں چونکہ طالبِ علم ہوں اور آپ اہلِ علم میں سے ہیں، اس لیے گزارش کو بحث نہ سمجھا جائے، بلکہ ایک طالبِ علمانہ اشکال سمجھا جائے۔
آپ نے حدیث «تحليلها التسليم» سے یہ استدلال فرمایا کہ سلام نماز سے خارج کر دیتا ہے، اسی لیے سلام کے بعد کلام جائز ہوا، اور پھر نئی تکبیر سے نماز شروع کی گئی۔
اس پر ایک علمی اشکال یہ ہے کہ: اگر سلام کے ذریعے نماز بالکل ختم ہو چکی تھی اور نئی نماز شروع ہوئی تھی، تو نبی ﷺ نے بعد میں جو دو رکعتیں پڑھیں، ان کو اسی نماز کی تکمیل کیوں قرار دیا گیا؟ اور آخر میں سجدۂ سہو کیوں کیا گیا؟
کیونکہ: نئی نماز میں پچھلی نماز کے سجدۂ سہو کا کوئی محل نہیں ہوتا سجدۂ سہو ہمیشہ اسی نماز کے لیے ہوتا ہے جس میں سہو واقع ہوا ہو اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ: سلام کے باوجود وہ نماز حکماً باقی تھی، اسی لیے اس کی تکمیل کی گئی اور اسی کے آخر میں سجدۂ سہو کیا گیا۔ رہا یہ اشکال کہ اگر نماز باقی تھی تو کلام کیوں جائز ہوا، تو اس بارے میں اہلِ علم نے یہ ذکر فرمایا ہے کہ: یہ کلام سہواً واقع ہونے والے سلام کی وجہ سے معاف تھا، نہ کہ اس بنا پر کہ نماز بالکل منقطع ہو چکی تھی۔ اسی لیے یہ سمجھ آتی ہے کہ حدیث «تحليلها التسليم» اپنے عموم پر ہے، لیکن ذوالیدینؓ والی حدیث اس عموم میں سہو کی حالت میں تخصیص کرتی ہے، جیسا کہ دیگر نصوص ایک دوسرے کی توضیح کرتی ہیں۔
اگر امام خود اپنی نماز کو باقی سمجھ کر اس کی اصلاح کر رہا ہو، تو جس مقتدی کی نماز ابھی باقی تھی، اس کے لیے امام سے الگ ہو جانے کی صریح دلیل کیا ہے؟ اگر اس فہم کے بر خلاف کوئی واضح حدیث یا اثر ہو تو رہنمائی فرما دی جائے،
کہ یہی میرے لیے باعثِ استفادہ ہوگا۔
جواب: اس میں کچھ اجتہاد کا پہلو موجود ہے۔
لیکن صحیح بات یہی ہے کہ امام خود سلام پھیرنے سے پہلے اصلاح کرلے تو مقتدی پابند ہے اقتداء کا لیکن جب سلام پھیر دے تو مقتدی خارج ہوگیا اقتداء سے اب دوبارہ اقتداء میں شامل ہونے پر دلیل نہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ امام نے اگر رکعت لوٹانے میں تاخیر کی کہ اتنی دیر میں مقتدی نے اپنی باقی رکعت پڑھ لی تھی تو اب مقتدی کی جب رکعت پوری ہوگئی تو وہ امام کے ساتھ شامل ہوکر پانچویں رکعت کس بنیاد پر پڑھے؟
لہذا راجح یہی ہے کہ مقتدی نماز جاری رکھے اپنی۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ
سائل: محترم شیخ! بار بار یہ کہ رہا ہو کی میں طالبِ علم ہوں اور آپ اہلِ علم میں سے ہیں، اس لیے گزارش کو مناظرانہ بحث نہیں بلکہ ایک طالبِ علمانہ اشکال سمجھا جائے۔
آپ کا فرمانا ہے کہ: سلام کے بعد اقتداء ختم ہو جاتی ہے، اور پھر امام کی طرف دوبارہ اقتداء پر کوئی دلیل نہیں، نیز یہ اشکال بھی ہے کہ اگر مقتدی اپنی رکعت پوری کر چکا ہو تو امام کے ساتھ شامل ہو کر پانچویں رکعت کس بنیاد پر پڑھے؟
اس پر مؤدبانہ عرض یہ ہے کہ: اصل میں یہاں پانچویں رکعت کا اشکال بنتا ہی نہیں، کیونکہ جس رکعت میں امام سے سجدہ فوت ہو گیا تھا، وہ رکعت شرعاً واقع ہی نہیں ہوئی تھی۔
اہلِ حدیث کے نزدیک رکن کے فوت ہونے سے پوری رکعت باطل ہو جاتی ہے، لہٰذا حقیقت میں امام کی چار رکعتیں مکمل ہی نہیں ہوئیں تھیں۔ مسبوق مقتدی کو اس وقت یہ علم نہیں ہوتا کہ فلاں رکعت باطل ہو چکی ہے، بلکہ وہ ظاہرِ حال کے مطابق یہی سمجھتا ہے کہ امام نے چار رکعت مکمل کر لی ہیں، اسی بنا پر وہ اپنی چھوٹی ہوئی رکعت ادا کر لیتا ہے۔
بعد میں جب امام کو یاد آتا ہے کہ ایک رکعت میں سجدہ فوت ہو گیا تھا اور وہ رکعت سرے سے شمار ہی نہیں ہوئی، تو دراصل اسی وجہ سے مقتدی کی رکعت بھی حقیقتاً باقی رہ گئی تھی۔
لہٰذا اب امام جب اس رکعت کو لوٹاتا ہے تو مسبوق مقتدی اس کے ساتھ شامل ہو کر: کوئی زائد یا پانچویں رکعت نہیں پڑھتا بلکہ اپنی ہی باقی رہ جانے والی رکعت مکمل کرتا ہے اسی لیے پانچویں رکعت کا اشکال اس صورت میں قائم نہیں ہوتا، کیونکہ وہ رکعت ابتدا ہی سے نماز کا حصہ ہی نہیں تھی۔ رہا یہ اصولی نکتہ کہ سلام سے اقتداء ختم ہو جاتی ہے، تو ذوالیدین رضی اللہ عنہ والی حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سہواً پھیرے گئے سلام کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے: اسی نماز کی تکمیل فرمائی اور اسی کے آخر میں سجدۂ سہو کیا اور یہ بات طے شدہ ہے کہ: سجدۂ سہو ہمیشہ اسی نماز کے لیے ہوتا ہے جس میں سہو ہوا ہو نئی نماز میں پچھلی نماز کے سہو کا کوئی محل نہیں ہوتا۔ اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ سہو کی حالت میں سلام اگرچہ ظاہراً نماز سے خروج کا سبب بنا، مگر نماز حکماً باقی رہی۔ ایسی صورت میں، جب امام خود اپنی نماز کو باقی سمجھ کر اس کی اصلاح کر رہا ہو، اور مقتدی کی نماز بھی حقیقتاً باقی ہو، تو اس مقتدی کے امام سے الگ ہو جانے کی صریح دلیل کیا ہے؟
اگر اس فہم کے برخلاف کوئی واضح صحیح حدیث یا اثر موجود ہو تو رہنمائی فرما دی جائے، کہ یہی میرے لیے باعثِ استفادہ ہوگا۔
واللہ اعلم بالصواب
جواب: اگر سجدہ پہلی رکعت میں فوت ہوا ہو اور مقتدی شامل ہی ایک رکعت بعد ہوا ہو اور امام کے سلام پھیرنے کے بعد اس نے اپنی سابقہ رکعت پڑھ لی ہو تب امام کو یاد دلانے پر امام ایک رکعت پڑھانی شروع کرتا ہے تب تک مقتدی وہ رکعت پڑھ چکا ہوگا۔
یہ نہیں کہ اب والی رکعات اس نماز کا حصہ نہیں ۔ حصہ ہے لیکن جب سلام پھیر دیا تو مسبوق تو اقتداء سے خارج ہوگیا اب اسی نماز کی باقی رہنے والی رکعات ادا کرنے کا شریعت نے الگ سے حکم دے دیا۔
صراحتا نص نہیں ہے۔
عمومی قرائن و دلائل ہیں جیسے تحلیلھا التسلیم والی حدیث۔
اس میں اجتہاد کا پہلو موجود ہے۔
مختلف اہل علم کی بات کو آپ سامنے رکھیں گے تو مسئلہ واضح ہو جائے گا۔ ان شاءاللہ
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ




