سوال         6799

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا ایسی کوئی حدیث ہے، جس میں یہ ذکر ہو کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے نماز میں سلام پھیرنے کے بعد جب تک آپ مقتدیوں کی طرف نہ پلٹتے کوئی صحابی اٹھ کر نہ جاتا؟
اور مزید وضاحت فرما دیں کیا امام کے سلام پھیرنے کے بعد امام جب تک مقتدیوں کی طرف منہ نہیں پھیر لیتا آپ اٹھ کر نہیں جا سکتے؟
مشائخ کرام رہنمائی فرمائیں جزاکم اللہ خیراً

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ سلام پھیرتے، پھر کہتے: اللہ اکبر، استغفر اللہ، استغفر اللہ اور اس کے ساتھ یہ بھی پڑھتے۔

“اللھم انت السلام و منک السلام تبارکت یا ذوالجلال والاکرام”

اس کے بعد آپ ﷺ کبھی دائیں جانب اور کبھی بائیں جانب مڑ جاتے۔ اس لیے امام کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ بے مقصد منہ ادھر کر کے دیر تک نہ بیٹھے۔ یہ ایک مسنون عمل ہے، اور امام کی ادائیگی اور ادب کا حصہ ہے۔
جب امام گھوم جائیں، تو مقتدی کو اجازت ہے کہ وہ جا سکتا ہے، مگر اس حد تک انتظار کرے کہ امام نے سلام پھیر کر ادائیگی مکمل کی ہو۔ کیونکہ حدیث میں آتا ہے:

“لا تسبقونی لا بالرکوع ولا بالسجود ولا بالانصراف”

یعنی رکوع، سجدہ اور نماز سے پھرنے میں امام سے سبقت نہ کی جائے۔
لہذا بہتر یہ ہے کہ امام کم از کم اتنا پڑھ کر سلام پھیرے، اور مقتدی اس کے بعد اٹھے۔ اگر امام اس ادب کا خیال رکھ رہا ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ مقتدی اپنی جگہ اذکار مکمل کر کے اٹھ سکتا ہے، اور اس میں کوئی سختی نہیں۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ