امام مسجد کے لیے حکومتی وظیفہ

مساجد کے اماموں کے لیے حکومتی وظیفے کی بات ہور ہی ہے، حالانکہ محکمہ اوقاف وغیرہ کے زیر انتظام مساجد کے وظائف پہلے ہی حکومت ادا کر رہی ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ مزید مساجد کا انتخاب پتہ نہیں کس بنیاد پر ہو گا؟
خیر اس حوالے سے دو باتیں زیر بحث آئیں گی:
جو وظیفہ لے گا، اسے حکومت کے تحت ہونا پڑے گا، حالانکہ رعایا کو وظیفہ ملے نہ ملے، انہیں معروف کاموں میں حاکم کی اطاعت کرنا ضروری ہے۔ لہذا حکومت کے تحت ہونا کوئی بری بات نہیں، ہم میں سے ہر بندہ کسی نہ کسی کے انڈر اور زیر انتظام ہی ہوتا ہے۔ جتنے ائمہ اور خطباء ہیں جو بذات خود منتظمین نہیں ہے، وہ یقینا کسی نہ کسی متولی، مہتمم یا کمیٹی کے تحت ہی چل رہے ہیں، جن میں بعض اچھے بھی ہیں اور بعض برے بھی، بالکل اسی طرح جس طرح حکمران اچھے بھی ہوتے ہیں اور برے بھی!
حکومت کو مساجد اور ائمہ کو وظیفے دینے میں دلچسپی کیوں ہے؟ تاکہ وہ ان کے ساتھ تعلقات اور اعتماد بحال کر سکے اور مذہبی لوگوں کو اپنے دائرہ کار میں لا سکے…! اگر اس کا مقصد اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے ملک میں اسلام اور اہل اسلام کی قدر افزائی ہے تو یہ کوئی برا مقصد نہیں، بلکہ ایک عظیم کام ہے۔ لیکن اس میں حکومت کی ذمہ داری میں اضافہ ہو جائے گا کہ اسے اپنے نظام اور قانون کو اسلام کے دائرے میں لانا ہو گا، کیونکہ ایسی حکومتیں اور حکمران بھی ہیں جو مساجد و مدارس اور مذہبی اسٹیجز کو اپنے ذاتی مقاصد اور دنیاوی مصالح کے لیے استعمال کرتے ہیں، اگر وظیفے کے بدلے میں علماء، ائمہ، مساجد سے یہ مطالبات شروع ہو گئے تو یقینا بہت بڑا فتنہ ہے، جس سے اللہ تعالی سب کو محفوظ رکھے!
سعودی عرب میں مساجد حکومت کے زیر انتظام ہیں، جہاں بڑی خیر بھی ہے، لیکن علماء و خطباء کی پکڑ دھکڑ بھی ہوتی رہتی ہے…!
اسی طرح احمد الشرع کے ملک شام میں خونخوار الاسد کے دور میں بھی اس کے افعال شنیعہ کی تحسین و تائید کرنے والی آوازیں منبر و محراب سے ہی بلند ہوتی تھیں، فراعنہ مصر کے ظلم و ستم اور لادینیت کے پیچھے بھی وظیفہ خوروں کی ایک فوج ظفر موج کھڑی ہوئی ہوتی ہے!
تحریر کا اختتام یہاں پر کرتے ہیں کہ حکومت کے ساتھ چلنا کوئی بری بات نہیں، بلکہ یہ شریعت کا مطلوب و مقصود ہے کہ معروف میں حکمرانوں کی اطاعت کی جائے، اسی طرح وظیفہ بھی کوئی بری بات نہیں، لینے والے کی ضرورت ہے، جبکہ دینے والے کے لیے سعادتمندی ہے، لیکن یہ سب کچھ تب ہے جب دین اور اس کی روح متاثر نہ ہو، اگر حاکم و محکوم کے درمیان وظیفہ خوری کا تعلق شرعی عقائد و احکامات کو مسخ کرنے کا ذریعہ بن رہا ہو تو اس فتنے سے دور رہنا فرض اور ضروری ہے۔

#خیال_خاطر

 

یہ بھی پڑھیں:اک سال گیا، اک سال نیا ہے آنے کو