سوال
کیا ایسا کہنا درست ہو گا کہ اسلام میں منصبِ امامت صرف نماز پڑھانے کا نام نہیں بلکہ اس کے ساتھ اہلِ محلہ کی دینی رہنمائی، اصلاحِ احوال، دعوت و تعلیم، نوجوانوں، خواتین اور بچوں کو مسجد سے جوڑنے کی کوشش، اور مسجد کو ایک فعال دینی مرکز بنانا بھی شرعی ذمہ داریوں میں شمار ہوتا ہے۔ اگر کوئی امام ان بنیادی دینی و تربیتی فرائض کو ادا نہ کرے اور صرف نماز تک محدود رہے تو کیا شریعت کی رو سے وہ منصبِ امامت کا حق ادا نہ کرنے والا شمار ہو گا؟ اور اس کوتاہی پر گناہگار سمجھا جائے گا؟ اگر یہ تمام ذمہ داریاں امام اور انتظامیہ کے درمیان معاہدے کی شکل میں موجود ہوں تو پھر کیا حکم ہو گا؟ اس بارے میں شرعی رہنمائی درکار ہے۔
جواب
الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده!
اسلام میں مسجد ایک عبادت گاہ ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرے کی فکری، اخلاقی، سماجی اور تعلیمی تحریک کا محور ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے مدینہ ہجرت فرمائی تو سب سے پہلے مسجدِ قبا اور پھر مسجدِ نبوی کی بنیاد رکھی تاکہ اسے ایک مثالی معاشرے کے قیام کا مرکز بنایا جا سکے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
“إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ”. [التوبہ: 18]
“اللہ کی مسجدوں کو وہی آباد کرتا ہے جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان لائے، اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے…” ۔
آباد کرنے سے مراد صرف عمارت بنانا نہیں، بلکہ وہاں ذکرِ الٰہی،عبادت، تعلیم و تربیت اور فلاحی سرگرمیاں جاری رکھنا ہے۔ ایک اور جگہ ارشاد ہے:
“فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ * رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ”.[سورة النور: 36-37]
“ان گھروں میں جن کے بلند کرنے اور جن میں اپنے نام کے ذکر کا اللہ نے حکم دیا ہے، وہ (پاک مرد) صبح و شام اس کی تسبیح کرتے ہیں، جنہیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ کے ذکر، اقامتِ صلاۃ، ادائے زکاۃ سے غافل نہیں کر پاتی، وہ قیامت کے دن سے ڈرتے ہیں جب دل اور آنکھیں پلٹ جائیں گی” ۔
مسجد معاشرتی تفریق کو ختم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ یہاں امیر و غریب اور حاکم و محکوم ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے:
“مومنوں کی مثال ان کی باہمی محبت اور رحم دلی میں ایک جسم کی طرح ہے، جب جسم کا کوئی ایک حصہ تکلیف میں ہو تو سارا جسم بے خوابی اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے”۔ [صحیح مسلم:2586]
مسجد اس “جسم واحد” کو جوڑنے والی جگہ ہے جہاں لوگ روزانہ پانچ مرتبہ مل کر اخوت اور ہمدردی سیکھتے ہیں۔
ایک اور حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“المسجد بيت كل تقي”.[مصنف عبد الرزاق: 21096، المعجم الكبير للطبراني:6143، وحسنه الألباني في صحيح الجامع: 6725 والصحيحة: 716]
“مسجد ہر متقی و پرہیز گار کا گھر ہے”۔
مسجد مسلمانوں کی پہلی درسگاہ ہے۔ تاریخی طور پر مسجد نبوی تعلیم و تربیت کا مرکز تھی جہاں صحابہ کرام دین کے ساتھ ساتھ دنیاوی معاملات بھی سیکھتے تھے۔
لہذا مساجد کو بچوں اور نوجوانوں کے لیے ایسی درسگاہیں ہونا چاہیے جہاں قرآن کے ساتھ ساتھ معاشرتی مسائل اور اخلاقیات کی تعلیم دی جائے۔ یہ وہ جگہ ہونی چاہیے جہاں لوگوں کو فکری گمراہی اور انتہا پسندی سے بچا کر اعتدال (وسطیت) کی راہ دکھائی جائے۔
مسجد کو ایک مکمل کمیونٹی سنٹر کی طرز پر ہونا چاہیے۔ چنانچہ مسجد کے ذریعے زکوٰۃ و صدقات جمع کرنا اور محلے کے بیواؤں، یتیموں اور معذوروں کی مدد کرنا مسجد کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔ اسی طرح خاندانی جھگڑوں، ازدواجی مسائل اور جائیداد کے تنازعات کے حل کے لیے مسجد ایک معتبر ثالثی مرکز کا کردار ادا کرتی ہے۔
جیسا کہ منشیات کی لعنت اور دیگر سماجی برائیوں سے نمٹنے کے لیے نوجوانوں کی رہنمائی بھی مسجد کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
مدینہ منورہ میں تمام دینی، رفاہی و فلاحی سرگرمیوں کا مرکز مسجد نبوی ہی ہوتی تھی، چنانچہ یہاں آپ تمام مسائل کے لیے مشاورت بھی کرتے، وفود کو بھی ملتے، غریبوں کی مدد کے لیے اپیل بھی کرتے اور بیماروں کی تیمارداری بھی فرماتے۔
گویا مسجد کی مثال معاشرے میں دھڑکتے ہوئے دل کی سی ہے۔ جس طرح دل پورے جسم کو صاف خون فراہم کرتا ہے، اسی طرح مسجد پورے محلے اور معاشرے کو روحانی سکون، اخلاقی رہنمائی اور سماجی تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اگر مسجد صرف نماز تک محدود ہو جائے تو معاشرہ فکری اور اخلاقی طور پر بکھر سکتا ہے۔
جب مسجد کا یہ کردار ہے تو اس اہم مقام و منصب کے ساتھ جو لوگ جڑے ہوئے ہیں، وہ سب ان ذمہ داریوں کو سمجھنے والے ہونے چاہییں، لہذا امام مسجد، خطیب، مؤذن، خادم اور سب سے پہلے منتظمین و متولی حضرات کو ان سب چیزوں کا شعور ہونا چاہیے۔
اگر کوئی امام و خطیب اور منتظم و متولی ان بنیادی دینی، تربیتی اور سماجی فرائض کو ادا نہیں کرتا اور مسجد کو صرف نماز تک محدود رکھتا ہے، تو وہ اس منصبِ امامت و خطابت اورمَسندِ انتظام و تولیت کا حقدار نہیں ہے۔
یہاں یہ بات بھی ضروری ہے کہ شریعت میں عمومی طور پر مسجد کا کردار تو بیان کیا گیا ہے، لیکن یہ نہیں کہا گیا کہ مسجد میں صرف امام نے یہ سب کرنا ہے یا خطیب کی ذمہ داری ہے یا اس میں مزید اتنے لوگ ہونے چاہییں یا نہیں ہونے چاہییں، لہذا اہل حل و عقد کو مل کر یہ طے کرنا چاہیے کہ ان تمام کاموں کو سر انجام دینے کے لیے ذمہ داریوں کی اس طرح تقسیم کی جائے تاکہ معاشرہ مسجد کی خیر وبرکت سے بھرپور فائدہ اٹھائے۔
جس طرح ہم اپنے کاروبار یا دیگر معاملات بڑی محنت اور اہتمام کے ساتھ سر انجام دیتے ہیں، ذمہ داریاں اور حقوق و فرائض بالکل واضح اور طے شدہ ہوتے ہیں، مسجد کے لیے بھی اسی طرح اہتمام کرنا چاہیے، یہ ممکن نہیں کہ ایک دو لوگوں کو کہہ دیا جائے کہ آپ نے چوبیس گھنٹے کے لیے یہاں فرائض سر انجام دینے ہیں، اس طرح کے مطالبے اور ذمہ داریوں کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ ہمارے نزدیک کسی چیز کی اہمیت نہیں ہے اور ہم اسے بہتر کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
بہت مناسب ہے کہ ان سب چیزوں کو ایک معاہدہ کی شکل میں مرتب کر لیا جائے اور پھر جو شخص جس معاہدے پر اتفاق کرے اس کے لیے ان ذمہ داریوں کو ادا کرنا لازمی اور ضروری ہو گا۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين
مفتیانِ کرام
فضیلۃ الشیخ ابو محمد عبد الستار حماد حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ عبد الحلیم بلال حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ جاوید اقبال سیالکوٹی حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ عبد الحنان سامرودی حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ محمد إدریس اثری حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ



